اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

میرا غلام کہاں ہے؟

datetime 15  مئی‬‮  2017 |

امام شافعیؒ جامع مسجد بغداد میں موجود اپنے دو شاگردوں ربیع بن سلمان اور اسمٰعیل بن یحییٰ مزنی کے ساتھ علمی گفتگو میں مصروف تھے ۔ رواج کے مطابق کئی دوسرے مسافر، بے گھر اور نادار لوگ بھی ادھر ادھر سوئے پڑے تھے۔ اچانک امام نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور مشعل کی روشنی میں سوئے ہوئے لوگوں کو باری باری اس طرح دیکھنے لگا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔

فرزند مکہ امام شافعیؒ کچھ دیر انتہائی انہماک سے اسے دیکھتے رہے اور پھر اپنے مخصوص دھیمے دھیرے اور نپے تلے لہجے میں ربیع بن سلمان سے کہا۔”ربیع ! جاؤ اور کسی کے متلاشی اس آدمی سے پوچھو کہ تمہارا وہ حبشی غلام جس کی ایک آنکھ ناقص ہے کہیں غائب یا گم تو نہیں ہو گیا؟ استاد کے حکم کی تعمیل میں ربیع اس اجنبی کے پاس گیا اور امام کا سوال دہرایا تو وہ شخص متعجب سا ہو کر ربیع کے ساتھ ہی امام کے حضور حاضر ہو گیا اور سلام کے بعد بولا ، ”آپ کے علم میں ہے تو بتایئے میرا غلام کہاں ہے؟“ وہ تو کسی قید خانہ میں بند پڑا ہو گا“ امام نے کچھ ایسے یقین کے ساتھ کہا کہ وہ اجنبی اور خود ان کے ہم نشین حیرت زدہ سا ہو کر امام کو دیکھنے لگے۔ وہ شخص اسی وقت عجلت میں مسجد سے رخصت ہو گیا تو امام دوبارہ اپنے شاگردوں کے ساتھ مکالمہ میں مصروف ہو گئے کہ کچھ دیر بعد وہ شخص دوبارہ آیا اور عاجزی سے بولا، ”حضرت! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرا گمشدہ غلام ڈھونڈنے میں میری مدد اور راہنمائی فرمائی“۔ امام کے شاگرد حیران و ششدر یہ سوچ رہے تھے کہ کیا امام کو غیب سے خبریں ملنے لگی ہیں۔ وہ شخص شکریہ کے بعد سلام کر کے رخصت ہوا تو اسمٰعیل مزنی سے رہا نہ گیا تو اس نے بیتاب ہو کر پوچھا ”اے استاد محترم و مکرم! آپ کو اس شخص کے غلام سے کیا لینا دینا، مکہ سے تشریف لائے ہیں نہ جان نہ پہچان تو پھر یہ سب کیا ہے؟

امام شافعی  ہلکا سا مسکرائے اور فرمایا ”یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو اس کی چال ڈھال اور تیور بتا رہے تھے کہ یہ کسی کی تلاش میں ہے“درست لیکن آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ وہ کسی غلام کو ہی تلاش کر رہا ہے اور وہ بھی ایک ایسے غلام کو جس کی ایک آنکھ میں نقص بھی ہو“ اس بار ربیع نے سوال کیا تو امام شافعی نے کہا ، ”وہ اس طرح کہ سوئے ہوئے لوگوں میں یہ شخص ادھر زیادہ متوجہ تھا جہاں سیاہ فام حبشی سوئے ہوئے تھے۔

پھر میں نے محسوس کیا کہ یہ ہر خوابیدہ حبشی کی بائیں آنکھ پر زیادہ روشنی اور توجہ دے رہا ہے اس لئے میں نے اندازہ لگا لیا کہ اس کا کوئی ایسا غلام غائب ہے جس کی ایک آنکھ میں کجی ہے“ پر جوش شاگردوں نے اگلے سوال پوچھا ”امام آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ اس شخص کا گمشدہ غلام کسی قید خانے میں ہو گا“ امام نے پوری متانت سے کہا ”میرا زندگی بھر کا تجربہ یہ ہے کہ غلام جب بھوکا ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے اور اگر پیٹ بھرا ہو تو بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے سو میں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ ان دونوں میں سے ایک حالت کا شکار ہو گا جس کا منطقی انجام قید خانہ ہی ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…