ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

زبان کا رنگ اور اس کی ساخت آپ کی صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) زبان کی رنگت یا ساخت میں تبدیلی کسی سنگین پریشانی کا اشارہ ہو سکتی ہے اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں کہ ہم چند لمحوں کے لئے اپنی زبان باہر نکال کر اس کا اچھی طرح معائنہ کر لیں۔ زبان کی مختلف قسم کی رنگت کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کی زبان کی رنگت سرخ ہورہی ہے تو یہ آپ کے جسم میں زیادہ درجہ حرارت کی نشاندہی کرتی ہے۔

ایسا عام طور پر بخار یا ہارمونز کے عدم توازن کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ اگر باقی زبان کی نسبت صرف اس کی نوک زیادہ سرخ ہو رہی ہے تو یہ سانس کی بیماری یا جذباتی دباؤ کا اشارہ ہے۔ اس کے برعکس بکثرت سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کرنے، یا منہ کی صفائی کا خیال نہ رکھنے کی صورت میں زبان کی رنگت سفید پڑجاتی ہے۔ اگر آپ کی زبان کی رنگت چمکدار گلابی ہے تو آپ کے جسم میں آئرن، فولک ایسڈ یا وٹامن بی 12 کی کمی ہوسکتی ہے۔زبان کی رنگت زردی مائل ہونا جسم میں توانائی کی کمی کو ظاہرکرتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کو صحت بخش اور توانائی سے بھرپور غذائیں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ جسمانی مشقت یا خواتین میں مخصوص ایام کے بعد بھی زبان کی رنگت زردی مائل نظر آسکتی ہے، جبکہ مدافعتی نظام کی کمزوری کی وجہ سے بھی زبان کی رنگت زرد ہو سکتی ہے۔سن یاس (مینوپاز) کے بعد خواتین کو اکثر زبان پر جلن کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح جلد پر سوزش پیدا کرنے والے اجزاء، جیسا کہ سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے بھی جلن محسوس ہوسکتی ہے۔ اگر آپ اینٹی بائیوٹک ادویات کا زیادہ استعمال کررہے ہیں تو اس صورت میں آپ کی زبان پر باریک روئیں محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اگر آپ کی زبان پھولی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم میں غذا کے اجزا پوری طرح جذب نہیں ہوپارہے۔

کسی زخم یا انفیکشن کی صورت میں زبان میں درد محسوس ہوتا ہے۔ جیسا کہ بعض اوقات کھانا کھاتے ہوئے آپ کے اپنے دانت سے زبان پر زخم لگ جاتا ہے۔ اس طرح کا زخم کئی دن تک مندمل نہی ہوتا اور مسلسل درد کا باعث بنتا ہے۔ اگر آپ کی زبان کی رنگت جامنی ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کسی زخم یا درد کی وجہ سے دوران خون کا نظام متاثر ہوا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…