حضرت امام غزالیؒ ایک مثال بیان فرماتے ہیں کہ ایک جہاز کہیں جا رہا تھا اور وہ پورا جہاز مسافروں سے بھرا ہواتھا، راستے میں ایک جزیرہ آیا تو جہاز کے کپتان نے اس جزیرہ پر جہاز کو روک لیا، تاکہ آگے کے سفر کے لیے کچھ راشن اور ضرورت کا سامان لیا جائے اور اس کپتان نے اعلان کر دیا کہ ہمیں چونکہ چند گھنٹوں کے لیے اس جزیرے پر ٹھہرنا ہے، لہٰذا اگر کوئی مسافر اس جزیرے پر اترنا چاہے تو اتر سکتا ہے،
ہماری طرف سے اجازت ہے چنانچہ جہاز پر جتنے لوگ سوار تھے، سب کے سب اتر کر جزیرے کی سیر کے لیے چلے گئے جزیرہ بڑا شاندار اور خوشنما تھا، اس میں بہت خوبصورت قدرتی مناظر تھے، چاروں طرف قدرتی مناظر کا حسن و جمال بکھرا ہوا تھا لوگ ان خوبصورت مناظر سے بہت محظوظ ہوتے رہے یہاں تک کہ جہاز کی روانگی کا وقت قریب آ گیا تو کچھ لوگوں نے سوچا کہ اب واپس چلنا چاہیے، روانگی کاوقت آ رہا ہے، چنانچہ وہ لوگ جہاز پر واپس آ گئے اور جہاز کی عمدہ اور اعلیٰ و آرام دہ جگہوں پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے، دوسرے کچھ لوگوں نے سوچا کہ یہ جزیرہ تو بہت خوبصورت اور بہت خوشنما ہے، ہم تھوڑی دیر اور اس جزیرے میں رہیں گے اور لطف اندوز ہوں گے، چنانچہ تھوڑی دیر اور گھومنے کے بعد خیال آیا کہ کہیں جہاز روانہ نہ ہو جائے اور جہاز کی طرف دوڑے ہوئے آئے یہاں آ کر دیکھا کہ جہاز کی اچھی اور عمدہ جگہوں پر قبضہ ہو چکا ہے، چنانچہ ان کو بیٹھنے کے لیے خراب اور گھٹیا جگہیں مل گئیں اور وہ وہیں بیٹھ گئے اوریہ سوچا کہ کم از کم جہاز پر تو سوار ہو گئے کچھ لوگ اورتھے، انہوں نے سوچا کہ یہ جزیرہ تو بڑا شاندار ہے، یہاں تو بہت مزہ آ رہا ہے، جہاز میں مزہ نہیں آ رہا تھا، چنانچہ وہ اس جزیرے پر رک گئے اور ان خوبصورت قدرتی مناظر میں اتنے بدمست ہوگئے کہ ان کو واپسی کا خیال بھی بھول گیا،
اتنے میں جہاز روانہ ہوگیا اور وہ لوگ اس میں سوار نہ ہو سکے۔ دن کے وقت تو وہ جزیرہ بہت خوشنما معلوم ہو رہاتھا اور اس کے مناظر بہت حسین معلوم ہو رہے تھے، لیکن جب شام کو سورج غروب ہو گیااور رات سر پر آ گئی تو وہی خوبصورت جزیرہ رات کے وقت بھیانک بن گیا کہ اس خوبصورت جزیرے میں ایک لمحہ گزارنا مشکل ہوگیا، کہیں درندوں کا خوف کہیں جانوروں کا خوف، اب بتائیے! وہ قوم جو جزیرے کے حسن و جمال میں اتنی محو ہو گئی کہ جو جہاز جا رہا تھا اس کو چھوڑ دیا وہ قوم کتنی احمق اور بے وقوف ہے۔



















































