جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

قلندرلودھی پر حملہ،اے این پی تحریک انصاف کی حمایت میں بول پڑی،اہم سیاسی جماعت کو انتباہ 

datetime 8  مئی‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے قلندر لودھی کی گاڑی پر عوام کے ہجوم کی جانب سے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست میں برداشت کا مادہ ہونا ضروری ہے اور عوام جوش کی بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کا احتساب کریں۔ وہ پیر کو جاری کردہ بیان میں اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر کے حلقے کے عوام غصے میں حق بجانب ہیں

تاہم اس ہجوم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو اس قسم کے ہتھکنڈے زیب نہیں دیتے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم لیگ ن سمیت دیگر جماعتوں کی قیادت اپنے کارکنوں کی حرکت کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کریں گی،انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تشدد کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے جس سے انتہا پسندی کی سوچ کو فروغ مل رہا ہے ، ہارون بلور نے کہا کہ صوبائی وزیرسمیت جس رکن اسمبلی نے اپنے حلقے کو فراموش کیا ان کا احتساب آئندہ الیکشن میں ووٹ کے ذریعے کیا جائے ، اور عوام سیاست میں برداشت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے میانہ روی اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ جمہوری انتقام کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عوام آئندہ الیکشن میں اس امیدوار کو مسترد کر دیں ، انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ تاہم عزت و احترام سب کو دیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تشدد کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے جس سے انتہا پسندی کی سوچ کو فروغ مل رہا ہے ، ہارون بلور نے کہا کہ صوبائی وزیرسمیت جس رکن اسمبلی نے اپنے حلقے کو فراموش کیا ان کا احتساب آئندہ الیکشن میں ووٹ کے ذریعے کیا جائے ، اور عوام سیاست میں برداشت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے میانہ روی اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ جمہوری انتقام کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عوام آئندہ الیکشن میں اس امیدوار کو مسترد کر دیں ، انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ تاہم عزت و احترام سب کو دیا جانا چاہئے۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…