بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے بڑے بینک میں بڑا فراڈ،صارفین میں کھلبلی مچ گئی

datetime 8  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں بینک آف پنجاب میں بڑے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ سازش کے تحت بینک آف پنجاب کے شیئرز کی قیمت گراکرچند سرمایہ کاروں نےاس کانظام سنبھالنے کی کوشش کی ہے . سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بینک آف پنجاب کے شیئرز کی قیمت گرانے کا نوٹس لے لیا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ  نے کہا ہے کہ بینک آف پنجاب کے شیئرز پردن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کاجلاس چیرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہواجس میں بینک آف پنجاب میں اس بڑے سکینڈل کاانکشاف ہوا۔بینک آف پنجاب کے شیئرز کی قیمت کو جان بوجھ کر گرادیا گیا ہے ۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے شیئرز کی قیمت گرا کر بینک آف پنجاب کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ بینک آف پنجاب کے 70 فیصد رائٹس ایشو کرنا بدنیتی ہے ۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ بینک آف پنجاب کے 70 فیصد رائٹس ایشو کرنے کے اعلان کے بعد شیئرز کی قیمت میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ . پنجاب بینک کے شیئر کی قیمت 12 روپے مقرر کرنا بلا جواز ہے۔ کچھ عرصہ قبل پنجاب بینک کے شیئر کی قیمت 18 روپے سے زائد تھی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس وقت جان بوجھ کر بینک کے شیئرز کو فروخت نہیں کیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اس فیصلے سے چھوٹے سرمایہ کاروں کا کروڑوں روپیہ ڈوبنے کا خدشہ ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے یہ فیصلہ چند بڑے سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا ہے ۔ سازش کے تحت بینک آف پنجاب کو بڑے بڑے سرمایہ داروں کے کنٹرول میں دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اسے نجکاری کے عمل سے ہی گذرنا نہ پڑے۔بینک آف پنجاب کے شیئرز کی قیمت گرا کر سرمایہ کاروں میں خوف پیدا کیا جارہا ہے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے مطالبہ کیا کہ ایس ای سی پی اور سٹیٹ بینک پنجاب بینک میں ہونیوالے اس سکینڈل کی تحقیقات کرائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…