جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’پردے میں نہ نکلنے کی سزا لڑکی کو کیا دیدی گئی؟ حیرت کے جھٹکے کیلئے تیار ہو جائیں

datetime 9  مئی‬‮  2017 |

تہران (آئی این پی )ایران میں حجاب نہ پہننے پر پولیس کی گاڑی نے لڑکی کو روند ڈالا ،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک وڈیو کلپ گردش میں ہے جس میں ایرانی پولیس کی گاڑی ایک لڑکی کو اس کے حجاب کی وجہ سے روندتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے کیوں کہ حکام کے مطابق مذکورہ لڑکی کا حجاب ان کے مقررہ معیار کے مطابق نہیں ہے۔اس واقعے کی تاریخ

ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی تاہم ایرانی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو ایرانی دارالحکومت تہران میں بنائی گئی۔وڈیو میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ پہلے پولیس کی گاڑی میں بیٹھی لڑکی سے عہد کروایا گیا کہ وہ اپنے حجاب کو درست کر لے گی تاہم جب لڑکی گاڑی سے اتر کر سڑک پار کرنے کے لیے پولیس کی گاڑی کے آگے پہنچی تو یک دم گاڑی حرکت میں آ گئی اور اس کو ٹکر مار کر روند دیا۔ اس پر اچانک موبائل سے وڈیو بنانے والی شخصیت بھی خوف کے مارے چلاتے ہوئے غالبا جائے مقام کی جانب دوڑ پڑی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ واقعے کے بعد لڑکی کے ساتھ کیا ہوا۔ایرانی قانون ملک میں تمام خواتین پر حجاب لاگو کرتا ہے تاہم ان میں اکثر خواتین محض سر پر ایک چھوٹے سے اسکارف پر ہی اکتفا کر لیتی ہیں جس میں بال جزوی طور پر ڈھکے ہوتے ہیں جب کہ چہرہ اور گردن ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان لڑکیاں تنگ اور چست لباس بھی زیب تن کر لیتی ہیں جس پر سخت گیر حلقے طیش میں آ جاتے ہیں۔گزشتہ برس ایرانی پولیس نے اعلان کیا تھا کہ تہران میں لڑکیوں اور خواتین کے حجاب کی نگرانی اور حجاب نہ کرنے والی بنا سنگھار کا اظہار کرنے والی خواتین کی گرفتاری کے لیے دارالحکومت تہران میں سادہ لباس والے 7000 خفیہ پولیس اہل کار تعینات کیے گئے تھے جن میں مرد اور خواتین شامل تھیں۔تہران میں ٹریفک پولیس کے سربراہ سید تیمور حسینی کے

مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران تقریبا 40 ہزار گاڑیوں کو پکڑا گیا جن کو بغیر حجاب والی لڑکیاں چلا رہی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…