جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

’’میں نے وزیر اعظم نواز شریف کو جھوٹا نہیں کہا‘‘ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کس پر برس پڑے؟

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ہونے والی خصوصی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے پاناما فیصلے کی غلط تشریح پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کیس فیصلے کے بعد ایک سیاسی لیڈر نے کہا کہ پانچوں ججز نے وزیراعظم کو جھوٹا قرار دیا وزیراعظم کو نہ تو میں نے جھوٹا قرار دیا اور نہ ہی اس بینچ میں موجود باقی دو ججز نے ایسا کہا‘آئندہ ججز کو غلط طور پر منسوب کیا تو انہیں کٹہرے میں لائیں گے،

ہم مقدمے کا آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ جمعہ کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے پاناما کیس پر عملدرآمد کے حوالے سے سماعت کی۔ سماعت کے دور ان جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ پانامہ کیس فیصلے کے بعد ایک سیاسی لیڈر نے کہا کہ پانچوں ججز نے وزیراعظم کو جھوٹا قرار دیا وزیراعظم کو نہ تو میں نے جھوٹا قرار دیا اور نہ ہی اس بینچ میں موجود باقی دو ججز نے ایسا کہا-جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اس لیڈر نے عوام سے دھوکہ دہی کی اور جھوٹ بولا میں نے تو کسی کو جھوٹا قرار نہیں دیا -انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو بدنام کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی‘انہوں نے کہا کہ اب وارننگ دے رہے ہیں کہ ٓائندہ ججز کو غلط طور پر منسوب کیا تو انہیں کٹہرے میں لائیں گے، ہم مقدمے کا آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے صبرکا امتحان مت لیں ٗہم نے قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف اٹھایا ہے، بہت تحمل سے کام کر رہے ہیں، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ بہت تحمل سے کام کر رہے ہیں، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے ٗآئندہ ایسا ہوا تو ہم کٹہرے میں لائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے بینچ کے سامنے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ٹی وی او سوشل میڈیا پر کیا ہورہا ہے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ پانامہ کیس کا معاملہ بین الاقوامی ہے اور پوری دنیا کی نظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں انہوں نے عدالتی کارروائی پر میڈیا پر بحث کرنے پر پابندی لگانے کی استدعا کی جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے فریڈم آف پریس کی کتاب ہمارے پاس موجود ہے ہمیں سوشل میڈیا یا میڈیا کو کنٹرول کرنا آتا ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کوئی کیا کہتا ہے ہمیں اس سے غرض نہیں ہم نے قانون اور آئین کا حلف اٹھایا ہے اور اس کے مطابق فیصلہ دیں گے-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…