لندن (نیوز ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی طرف سے رینجرز کے کرنل اور دیگر عملہ کو جنہوں نے نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے خلاف برطانیہ میں موجود تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کے علاوہ آل پاکستان لائرز ایسوسی ایشن برطانیہ کے بیرسٹر ز ‘ سولیسٹرز ‘اور ممبران کے علاوہ پی ٹی آئی ‘ مسلم لیگ ن کے عہدیداروں اور اراکین کی طرف سے سکاٹ لینڈ یارڈ کو بذریعہ ٹیلی فون و تحریری شکایات موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ عوام کی بھاری تعداد نے سکاٹ لینڈ یارڈ میں الطاف حسین کے خلاف شکایات درج کرانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔پاک فوج پاکستان کی سرحدوں کی محافظ ہے اور وہ کسی سیاسی جماعت کی آلہ کار نہیں ،سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ اندرون ملک حفاظت بھی پاک فوج کی ذمہ داری ہے اور اس نے اپنا فریضہ سر انجام دیا ہے مگر الطاف حسین نے تین تلوار پر ہونے والی تقریر کی طرح دوبارہ ایک ایسی تقریر کی ہے جس پر رینجرز کی طرف سے مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔اس تقریر کے خلاف شکایات درج کرانے کا یہ سلسلہ اب عروج کو پہنچ گیا ہے مگر اب تک درج کرائی جانے والی شکایات کی تعداد کا سرکاری طور پر علم نہیں ہو سکا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 15ہزار سے زائد افراد نے شکایات درج کروائی ہیں۔
رینجرزکے خلاف بیان الطاف حسین کے خلاف لندن پولیس کو کتنی شکایات ملیں،جان کر آپ بھی حیران ہو جائینگے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
-
سحری میں اہل خانہ کا اجتماع ،دوشیزہ نے باپ کو قتل کرڈالا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
پاکستان کی درخواست پر ایران نے سعودی عرب پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دے دی
-
سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ مریم نواز راشن کارڈ نہ رکھنے والے محنت کشوں کے لیے خوشخبری



















































