بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

کراچی ،ڈی آئی جی کے بیٹے کا قتل،گارڈ نے منصوبہ پہلے سے بنارکھاتھا،مقتول کی والدہ اوربہنوں کوبھی قتل کرنے کی کوشش،سنسنی خیزانکشافات

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ڈی آئی جی پشاور کے بیٹے کو قتل کرنے والے گارڈفقیرمحمد نے اپنا ابتدائی بیان پولیس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ملزم فقیرمحمدنے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ عمیر شہاب کو قتل کرنے کے بعد مقتول کی والدہ اور بہنوں نے کمروں کی جانب بھی گیا مگر دروازہ بند ہونے کے باعث انہیں قتل نہیں کرسکا۔

پولیس کے مطابق واقعہ کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات بھی سامنے آئے ہیں ۔ملزم پولیس اہلکار فقیر محمد نے قتل کے لئے رسی اور دستانے پہلے سے خرید رکھے تھے قاتل نے ساتھی ملازم کے سونے بعد واردات انجام دی۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب فقیر محمد کی آخری ڈیوٹی تھی صبح اسے کشمور کے لئے روانہ ہونا تھا ۔پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے عمر شہاب کو اندرونی کمرے میں قتل کیا واردات کے بعد بنگلے کی بالائی منزل پر واقع ڈی آئی جی کی اہلیہ کے کمرے میں داخل ہوا اور ان پر بھی حملہ کیا اور کہا کہ مجھے 2 لاکھ روپے دو جس پر اہلیہ نے کہا کہ مجھے چھوڑو گے تو دو گی گھر میں تو اتنے پیسے نہیں بعد ازاں وہ بیہوش ہوگئی جب ہوش میں آیا تو ان کے گلے میں بھی رسی موجود تھی اور منہ سے خون نکل رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ڈی آئی جی کی بیٹیوں کے کمرے کا دروازہ بھی پیٹا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…