بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

کراچی ڈی آئی جی پشاور کے بیٹے کا پراسرار قتل،اصل وجہ کیاتھی،گھر میں کون کون موجود تھا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

کراچی (آئی این پی ) ڈیفنس خیابان سحر میں ڈی آئی جی پشاور شہاب مظہر کے بیٹے کا پراسرار قتل ، بنگلے پر تعینات پولیس گارڈ نے پھندا لگا کر مارا۔ پولیس کو گھر میں ڈاکو گھسنے کی اطلاع ملی تھی۔ متضاد بیانات سے معاملہ مشکوک ، پولیس نے گارڈ کو حراست میں لے لیا۔ پولیس گارڈ فقیر محمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھے 2 لاکھ روپے کی ضرورت تھی ، عمیر شہاب سے مانگے تو جھگڑا ہوگیا۔

مالکن کے پاس پیسے مانگنے کیلئے جانے کی کوشش کی تو ہاتھا پائی ہوگئی ، ملزم نے کہا کہ قتل نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جھگڑے کے دوران عمیر ہلاک ہوگیا ، دوسرا سیکورٹی گارڈ واقعے کے وقت سورہا تھا ، جس نے ڈی آئی جی کو واقعے کی اطلاع دی ،واقعے کے وقت گھر میں آئی جی کی دو بیٹیاں اور اہلیہ بھی موجود تھی ، پولیس کے مطابق پشاور کے ڈی آئی جی انکوائریز اینڈ انسپیکشن شہاب مظہر ولی کے بیٹے عمیر شہاب کو ان کے گھر کی حفاظت پر مامور پولیس گارڈ فقیر محمد نے ہاتھا پائی کے دوران قتل کیا۔ عمیر شہاب کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا تاہم پولیس نے کمرے کا دروازہ توڑ کر اسے حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق دوران حراست پولیس گارڈ فقیر محمد نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ عمیر کی والدہ سے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کررہا تھا، جو اس نے گاؤں میں موجود اپنے اہل خانہ کو بھیجنے تھے، فقیر محمد نے جب رقم کے مطالبے کے لیے عمیر شہاب کی والدہ سے ملنے کی کوشش کی تو عمیر نے اس کا راستہ روک لیا اور اوپری منزل پر موجود والدہ کے کمرے میں جانے سے روکا۔ رات ڈھائی بجے پیش آنے والی اس کارروائی کے دوران فقیر محمد نے عمیر شہاب سے ہاتھا پائی کرتے ہوئے اس کے گلے میں رسی ڈالی اور گلا گھونٹ کر نوجوان کو قتل کردیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم فقیر محمد کا تعلق کشمور سے تھا اور وہ گذشتہ 6 سے 7 ماہ سے ڈی آئی جی پشاور کے کراچی میں واقع گھر میں سیکیورٹی گارڈ کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا تھا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کیلئے تھانے منتقل کردیا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…