بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

ایسا اسلامی ملک جہاں مرنے کے بعد بھی لوگوں کیساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟ انوکھی روایت نے لوگوں پر سکتہ طاری کر دیا

datetime 23  اپریل‬‮  2017 |

جکارتہ(این این آئی)انڈونیشیا کے ایک گاؤں میں مقامی لوگ اپنے فوت ہونے والے عزیز واقارب کو دفن نہیں کرتے بلکہ زندہ انسانوں کی طرح ان کی خدمت خاطر کی جاتی ہے۔ انہیں کھانا دیا جاتا ہے اور سگریٹ پیش کیے جاتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق انڈونیشیا میں ’توراجان‘ گاؤں کے باشندوں کا کہنا تھا کہ وہ موت پریقین نہیں رکھتے۔ یہ طرز عمل نیا نہیں بلکہ نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ مرنے والے کو بھی زندہ ہی سمجھا جاتا ہے

مگر مردوں کی نقل وحرکت اور بول چال بند ہونے پر انہیں ‘بیمار’ سمجھا جاتا ہے۔لوگوں کا عقیدہ ہے کہ فوت ہونے والا شخص عالمی خارجی سے اب رابطے میں نہیں رہا ہے۔ وہ اسے بیماری سمجھتے ہیں پوری عمر اس کے جنازے کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔لوگوں کا کہنا تھا کہ زندہ انسانوں کی طرح فوت ہونے والوں بھی ضروریات کی چیزیں خرید کرنے کے لیے رقم درکار ہوتی ہے، اس کے علاوہ انہیں بھوک بھی لگتی ہے اور وہ دیگر جسمانی حاجات بھی پوری کرتے ہیں،تورجان گاؤں میں رہنے والے ہر گھر میں ایک کمرہ ہا یال اپنے مردہ لوگوں کے لیے مختص کرتے ہیں، وہ سال ہا سال تک ان مردہ افراد کو کمروں میں رکھتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ انہیں آواز دیتے ہیں۔وہ سال ہا سال تک مردوں کے ساتھ رہتے ہیں مگر ان کی موت پر یقین نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں خاموش ہونے والا شخص(مرد یا عورت)بیمار ہے اور اسے جلد شفا ملے گی۔فوت ہونے والے افراد کے جسم کو گلنے سڑنے سے بچانے کے لیے وہ فارمولین‘ نامی ایک سفوف استعمال کرتے ہیں۔ یہ سفوف ہر گھر میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔لوگ مردوں کے کمروں میں آتے، انہیں کھانا، پانی، سگریٹ پیش کرتے ہیں، عموما کھانا دن میں دو بار پیش کیا جاتا ہے۔ معمول کے مطابق مردوں کو نہلایا جاتا ہے اور ان کے کپڑے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ ان کے پاس قضائے حاجت کے کے لیے خصوصی طور پر تیار

کردہ برتن چھوڑا جاتا ہے۔ گھر میں کوئی مہمان آئے تو اسے بھی مردوں کا درشن کرایا جاتا ہے۔ مہمان بھی فوت ہونے والوں سے سوال پوچھتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہناتھا کہ انہیں فوت ہونے والے افراد جنہیں وہ زندہ سمجھتے ہیں کی ارواح کے کسی دوسرے مقام پر چلنے جانے کا خوف لاحق رہتا ہے۔ اس لیے وہ مردوں کے لیے بنائے گئے کمرے کو ہروقت روشن رکھتے ہیں۔ روشنی مایوسی اور تھکاوٹ کو دورکرنے کا بھی ذریعہ

ہے۔فوت ہونے کے بعد مردہ کے جنازے کا اہتمام سالوں جاری رہتا ہے۔ اس کے عزیز واقارب دنیا بھر سے آتے ہیں اور قربانی کے جانور ذبح کرتے ہیں۔میت کو اپنے ساتھ رکھنے کاایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ اس طرح لوگ اپنے پیاروں کی جدائی کے دکھ سے نجات پا لیتے ہیں۔ ماماک لیزا نامی ایک خاتون کہتی ہیں کہ وہ 12 سال سے

اپنے والد کے جسد خاکی کے ساتھ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ لاش کو محفوظ رکھنے سے پیاروں کی جدائی کے دکھ کا احساس کم ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…