جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

داعش کے جنگجو جب ہمارے گھیرے میں پھنس گئے تو انہیں کس نے بچایا؟ طالبان نے حیرت انگیزدعویٰ کردیا

datetime 16  اپریل‬‮  2017 |

کابل (آئی این پی )افغا ن طالبان نے مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکہ کے نان نیوکلیئرمیزائل حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا دوہرا معیار ہے ، ایک طرف داعش کی سرکوبی کا دعوی کرتا ہے تو دوسری طرف داعش کو عملی طورپر مستحکم کررہاہے ، ماضی میں ہم نے تین مرتبہ داعش جنگجوں کو ننگر ہار میں اس حد تک نقصان پہنچایا کہ ان کا خاتمہ یقینی ہوگیا لیکن امریکی طیاروں نے ہمارے مجاہدین پر بمباری کرکے

داعش جنگجوں کو نجات دلوائی،افغانستان میں داعش کا سدباب، افغانوں کا کام ہے، غاصب امریکہ کا کام نہیں، امریکہ کو اگر کسی سے تشویش ہے تو اپنے ملک کی سرحدات کو محفوظ کرے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے صوبہ ننگر ہار ضلع اچین کے ماموند درہ کے علاقے پر امریکی فوج نے سب سے بڑا غیر ایٹمی بم گرایا۔ ایسے جرم کا ارتکاب اور پھر اس پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر پراپیگنڈا عمل میں لانا، امریکی جارحیت اور بڑھتی ہوئی وحشت ظاہر کرتا ہے۔ ہمارے مقبوضہ مظلوم ملک کے طول و عرض میں بیرونی افواج اور اجنبی افراد کی جانب سے ہر قسم کے اسلحہ کا استعمال اور اتنی وحشت سے دھماکے کسی بھی طرح جائز نہیں ہیں۔ امریکہ کے اس جرم کی ہم پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس کے عاملوں کو عالمی مجرم کہتی ہے۔ امریکہ کے اس جرم کی ہم پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس کے عاملوں کو عالمی مجرم کہتی ہے۔امریکہ داعش کے نام سے افغانوں کو قتل، ہمارے علاقوں پر بمباری، ہماری سرزمین پر اپنے بھاری ہتھیاروں کے تجربات جاری رکھنا چاہتا ہے، اس کا کوئی جواز نہیں ہے بلکہ یہ مطلق ظلم اور تجاوز ہے۔ امریکہ اپنے اس عمل سے نمائشی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…