حضرت عامرؓ نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہو رہے تھے، ایک درخت پر انہوں نے ایک گھونسلہ دیکھا جس میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے، چڑیا کہیں گئی ہوئی تھی، ان کو وہ پیارے لگے، اچھے لگے ان کو انہوں نے اٹھا لیا، ذرا دیر میں چڑیا آ گئی اس نے ان کے سر پر چہچہانا شروع کر دیا،
وہ ان کے سر پر اڑتی رہی چہچہاتی رہی، وہ صحابیؓ سمجھ نہ پائے بالآخر تھک کر چڑیا ان کے کندھے پر بیٹھ گئی، انہوں نے اس کوبھی پکڑ لیا، نبی اکرمؐ کی خدمت میں آ کر پیش کیا، اے اللہ کے نبیؐ یہ بچے کتنے پیارے اور خوبصورت ہیں اور واقعہ بھی سارا سنایا۔ نبی اکرمؐ نے بات سمجھائی کہ ماں کے دل میں بچوں کی اتنی محبت تھی کہ پہلے تو یہ تمہارے سر پر اڑتی رہی، فریاد کرتی رہی، میرے بچوں کو آزاد کر دو، میں ماں ہوں، مجھے بچوں سے جدا نہ کرو، مگر آپ سمجھ نہ سکے، تو اس ننھی سی جان نے یہ فیصلہ کیا کہ میں بچوں کے بغیر تو رہ نہیں سکتی، میں اس آزادی کا کیا کروں گی، میں بچوں سے جدا ہوں، اس لیے تمہارے کندھے پرآ کر بیٹھ گئی، اگرچہ میں قید ہو جاؤں گی مگر بچوں کے ساتھ تو رہوں گی۔ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ ان کو واپس اپنی جگہ چھوڑ آؤ۔۔۔ جب پرندہ کو اپنے بچے سے اس قدر محبت تو پھر خدائے پاک کو اپنے بندوں سے کس قدر محبت ہوگی!



















































