بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

گوگل پرخواتین کے حوالے سے سنگین الزام عائد

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

سان فرانسسکو( آن لائن ) امریکی حکومت گوگل کے خلاف مرد ملازمین کے مقابلے خواتین کوکم تنخواہ دینے کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔گوگل کو مردوں کے مقابلے خواتین ملازمین کو کم تنخواہیں دینے کے الزامات کا سامنا ہے، تاہم کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔سان فرانسسکو کی ایک عدالت میں دوران سماعت امریکی محکمہ لیبر کے عہدیداران نے گوگل کے خلاف خواتین کو کم تنخواہیں دئیے جانے کے الزامات

کا انکشاف کیا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ لیبر کے ریجنل ڈائریکٹر جینیٹی وائپر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں تمام کمپنیوں میں خواتین ملازمین کو کم تنخواہیں ادا کیے جانے کا پتہ چلا ہے۔دوسری جانب گوگل نے عدالت میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ادارے میں ملازمین کو ملنے والے معاوضے کا ہرسال جائزہ لیتے ہیں۔گوگل نے اپنے بیان میں کہا کہ جائزے میں کمپنی میں جنسی تفریق کی بناء4 پر تنخواہیں دئیے جانے کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔اس سے پہلے امریکی محکمہ لیبر نے رواں برس جنوری میں گوگل پر ملازمین کا ڈیٹا، تنخواہیں اور دیگر معلومات دینے کے حوالے سے بھی ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔حکومت کا مؤقف تھا کہ گوگل حکومتی ٹھیکیدار ہے، جو قانونی طور پر حکومت کو ڈیٹا فراہم کرنے سمیت وفاقی آئینکے تحت ملازمین کو یکساں معاوضے فراہم کرنے کا پابند ہے۔گوگل نے حکومتی درخواست پر اپنے مؤقف میں کہا کہ کمپنی نے کچھ ڈیٹا ضائع کردیا ہے، جب کہ وہ دیگر ڈیٹا فراہم نہیں کرسکتا، کیوں کہ کمپنی سمجھتی ہے کہ اس سے ملازمین کی پرائیویسی متاثر ہوگی۔خیال رہے کہ گوگل میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین ملازمین کی تعداد صرف 19 فیصد ہے، جب کہ گوگل میں خواتین ورکرز کی مجموعی تعداد 70 ہزار ہے۔گوگل سمیت انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی تمام کمپنیاں ملازمین کے بھرتی کرنے کے عمل میں بہتریاں لانے کے

لیے کوشاں ہیں۔کمپنیز نے بہتری کے غرض سے کئی تکنیکی عہدوں پر سفید اور ایشیائی مردوں کو تعینات کیا، مگر اس کے باوجود انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں گزشتہ چند برسوں کے درمیان گوگل اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیز میں کام کی جگہوں پر ملازمین کو جنسی اور نسلی عدم توازن کا نشانہ بنائے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔امریکی محکمہ لیبر اب گوگل اور دیگر ٹیکنالوجی کمپینز کے ملازمین کو بھرتی کرنے اور تنخواہیں دینے کے عمل کی تحقیقات کر رہا ہے، محکمہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ کمپنیز امریکا کی مرکزی حکومت کے قوانین پر عملدر آمد کر رہی ہیں یا نہیں؟حال ہی میں امریکی محکمہ لیبر نے ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل پر بھی خواتین اور سیاہ مرد ملازمین کے مقابلے سفید مرد ملازمین کو زیادہ مراعتیں دئیے جانے کا مقدمہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…