منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی حکمران آنگ سوچی کا حیران کن موقف سامنے آ گیا

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

نیپی دیا(مانیٹرنگ ڈیسک) امن کی نوبل انعام یافتہ میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ریاست راکھنی میں کارروائیوں کو نسل کشی کا نام دینا غیرمناسب ہوگا تاہم آپریشن کے نتیجے میں پڑوسی ملک جانے والے لوگوں کو کھلے ہاتھوں قبول کیا جائے گا۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپ نے راکھنی

ریاست میں فوج کے کریک ڈاؤن کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا تاہم آنگ سان سوچی نے سیکیورٹی فورسز کا دفاع کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ راکھنی ریاست میں کچھ مسائل ہیں لیکن انہیں نسل کشی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ راکھنی میں لوگوں کی آپس میں دشمنیاں ہیں جس کی وجہ سے اکثریت مسلمانوں کی ہلاک ہوئی تاہم اب وہاں کے لوگ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…