جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی حکمران آنگ سوچی کا حیران کن موقف سامنے آ گیا

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

نیپی دیا(مانیٹرنگ ڈیسک) امن کی نوبل انعام یافتہ میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ریاست راکھنی میں کارروائیوں کو نسل کشی کا نام دینا غیرمناسب ہوگا تاہم آپریشن کے نتیجے میں پڑوسی ملک جانے والے لوگوں کو کھلے ہاتھوں قبول کیا جائے گا۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپ نے راکھنی

ریاست میں فوج کے کریک ڈاؤن کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا تاہم آنگ سان سوچی نے سیکیورٹی فورسز کا دفاع کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ راکھنی ریاست میں کچھ مسائل ہیں لیکن انہیں نسل کشی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ راکھنی میں لوگوں کی آپس میں دشمنیاں ہیں جس کی وجہ سے اکثریت مسلمانوں کی ہلاک ہوئی تاہم اب وہاں کے لوگ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…