جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

این جی او میں کام کرنیوالی حنا شہنواز کاقتل،عدالت نے 6ملزمان کو فیصلہ سنادیا

datetime 6  اپریل‬‮  2017 |

کوہاٹ(آئی این پی )کوہاٹ میں مبینہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکی حنا شہنواز کے قتل میں ملوث چھ ملزمان کوضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔رہائی پانے والوں میں دو افراد کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی ہے جبکہ دیگر چار ملزمان کو دو لاکھ دو نفری ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔ملزمان کی رہائی کا فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج تھری کے عدالت کی طرف سے جمعرات کو سنایا گیا

جبکہ مقدمہ قتل میں براہ راست نامزد ملزم کو تاحکم عدالت جیل میں قید رکھنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق این جی اوز میں ملازمت کرنے والی استرزئی پایاں کوہاٹ کی رہائشی27سالہ دوشیزہ حناء4 شہنواز کے مبینہ غیرت کے نام پر قتل کی مشہور کیس میں ملوث زیر حراست ملزمان ذوالفقار علی عرف بھٹو،پولیس کانسٹیبل میثم علی،حماد عالم اور معظم علی کو دو دو لاکھ دونفری ضمانت منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج تھری کے فاضل جج عبدالبصیر نے ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کردئیے جبکہ عدالت نے قتل کے اس مقدمہ میں نامزد دیگر دو ملزمان ریاض علی اور شاہ عالم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں بھی ضمانت پرچھوڑنے کافیصلہ سنا دیا ہے۔تاہم عدالت نے قتل کی ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ اور واقعہ کے عینی شاہد ہونے کی دعویدار مقتولہ کی بہن فرحین شاہ کی طرف سے براہ راست نامزد ہونے والے ملزم محبوب عالم کو جیل میں قید رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 2فروری کو کوہاٹ ہنگو روڈ کے علاقہ استرزئی پایاں میں این جی اوز کی ملازمت چھوڑنے سے انکار کے تنازعے پر چچا زاد بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی حناء4 شہنواز قتل کیس میں پہلے روز مقتولہ کی بہن کی مدعیت میں تھانہ استرزئی پولیس نے انکے چچا زاد محبوب عالم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا تھا

جبکہ بعد ازاں مدعیہ مقدمہ کے پولیس اور عدالت کے سامنے دئیے گئے بیانات کی روشنی میں مقدمہ قتل میں مزید سات افراد کو بھی مبینہ قاتل کو اعانت کے جرم میں نامزد کیا گیاجنہیں پولیس نے مختلف کاروائیوں کے دوران گرفتار کرکے کیس کا چالان مکمل عدالت میں پیش کردیا۔پولیس کی تفتیشی ٹیم نے عدالت میں زیرسماعت قتل کے اس کیس کی پیروی کرتے ہوئے عدالت کو مطلوبہ شواہد فراہم کئے جس پر عدالت نے زیر حراست ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید عدالتی کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…