جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

امریکہ کسی سے نہیں ڈرتا اور اگر امریکہ کو خطرہ ہے تو وہ کس اسلامی ملک سے ہے؟امریکی وزیردفاع کا حیرت انگیزانکشاف

datetime 2  اپریل‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی)امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ ایران نے دہشت گردی کو برآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ بدستور جنگجوئی کی سرگرمیوں کی پشتیبانی کررہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جیمز میٹس نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران میں ایران کے کردار میں کوئی تبدیلی رو نما نہیں ہوئی ہے۔ جیمز میٹس سے ان کے 2012 میں امریکا کو درپیش تین بنیادی

خطرات کے حوالے سے ایران کے بارے میں تبصرے سے متعلق سوال پوچھا گیا تھا۔انھوں نے تب کہا تھا کہ امریکا کو ایران ، ایران اور صرف ایران ہی سے خطرات درپیش ہیں۔انھوں نے کہا کہ جب میں نے ایران کے بارے میں یہ گفتگو کی تھی تو اس وقت میں امریکا کی مرکزی کمان کا کمانڈر تھا۔میں نے کہا تھا کہ ایران بنیادی طور پر دہشت گردی کو برآمد کرنے والا ملک ہے۔وہ تب دہشت گردی کی پشتیابی کرنے والا بنیادی ملک بھی تھا اور اس نے آج بھی اس طرح کا کردار جاری رکھا ہوا ہے۔ان کے اس بیان سے چند روز قبل ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو ایک مرتبہ پھر یمن کے حوثی باغیوں کی مالی اور مادی مدد پر خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ حوثی باغیوں کی سرگرمیوں سے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں جہازرانی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔امریکا کی مسلح افواج کی مرکزی کمان کے موجودہ سربراہ آرمی جنرل جوزف ووٹل نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے یہ انتباہ جاری کیا تھا۔انھوں نے واضح کیا تھا کہ امریکا یہ نہیں چاہتا کہ یمن کی سرزمین اس کے خلاف حملوں کے لیے ایک پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو۔حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایسی رپورٹس بھی منظرعام پر آچکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے یمن کے حوثی باغیوں کی میزائل صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے

تا کہ وہ یمنی دارالحکومت صنعا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے سعودی سرزمین کو نشانہ بنا سکیں۔ حوثی باغی گذشتہ سال مکہ مکرمہ کی جانب بھی میزائل داغ چکے ہیں اور یہ میزائل طائف شہر کے نزدیک جا کر گرا تھا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…