ایک دفعہ كا ذكر ہے كہ عربوں كے ایک اصطبل میں بہت سے گدھے رہتے تھے، اچانک ایک نوجوان گدھے نے كھانا پینا چھوڑ دیا، بھوک اور فاقوں سے اسكا جسم لاغر و كمزور ہوتا گیا، گدھے كا باپ اپنے گدھے بیٹے كی روز بروز گرتی ہوئی صحت كو دیكھ رہا تھا۔ایک دن اس سے رہا نہ گیا اس نے اپنے گدھے بیٹے سے اسكی گرتی صحت اور ذہنی و نفسیاتی پریشانیوں كا سبب جاننے كیلئے تنہائی میں بلا كر پوچھا، بیٹے كیا بات ہے،
ہمارے اصطبل میں تو اعلٰی قسم کے كھانے دستیاب ہیں، مگر تم ہو كہ فاقوں پر ہی آمادہ ہو، تمہیں ایسا كونسا روگ لگ گیا ہے، آخر مجھے بھی تو كچھ تو بتاؤ، کسی نے تیرا دل دكھایا ہے یا كوئی تكلیف پہنچائی ہے؟گدھے بیٹے نے اپنا سر اُٹھایا اور ڈبڈباتی آنكھوں سے اپنے گدھے باپ كو دیكھتے ہوئے كہا ، ہاں اے والدِ محترم، ان انسانوں نے تو میرا دل ہی توڑ كر ركھ دیا ہے۔ كیوں! ایسا كیا كیا ہے ان انسانوں نے تیرے ساتھ؟ یہ انسان ہم گدھوں كا تمسخر اڑاتے ہیں۔وہ كیسے؟ باپ نے حیرت سے پوچھا۔ بیٹے نے جواب دیا: كیا آپ نہیں دیكھتے كسطرح بلا سبب ہم پر ڈنڈے برساتے ہیں، اور جب خود انہی میں سے كوئی شرمناک حركت كرے تو اسے گدھا كہہ كر مخاطب كرتے ہیں۔ كیا ہم ایسے ہیں؟ اور جب ان انسانوں كی اولاد میں سے كوئی گھٹیا حركت كرے تو اسے گدھے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اپنے انسانوں میں سے جاہل ترین لوگوں كو گدھا شمار كرتے ہیں، اے والد محترم كیا ہم ایسے ہیں؟ ہم ہیں كہ بغیر سستی اور كاہلی كے ان كیلئے كام كرتے ہیں، ہم ان سب باتوں كو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں، ہمارے بھی كچھ احساسات ہیں آخر! گدھا باپ خاموشی سے اپنے گدھے بیٹے كی ان جذباتی اور حقائق پر مبنی باتوں كو سنتا رہا، اس سے كوئی جواب نہیں بن پا رہا تھا، وہ جانتا تھا كہ اسكا بیٹا اس كم عمری میں كیسی اذیت ناک سوچوں سے گزر رہا ہے، اسے یہ بھی علم تھا كہ صرف كھڑے كھڑے كانوں كو دائیں بائیں ہلاتے رہنے سے بات نہیں بنے گی،
بیٹے كو اس ذہنی دباؤ اور پریشانی سے نكالنے كیلئے كچھ نہ كچھ جواب تو دینا ہی پڑے گا۔ لمبی سی ایک سانس چھوڑتے ہوئے اس نے كہنا شروع كیا كہ اے میرے بیٹے سن: یہ وہ انسان ہیں جنكو اللہ تعالٰی نے پیدا فرما كر ساری مخلوقات پر فوقیت دی ، لیكن انہوں نے ناشكری كی، انہوں نے اپنے بنی نوع انسانوں پر جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں وہ ہم گدھوں پر ڈھائے جانے والےظلم و ستم سے ہزار ہا گنا زیاده ہیں۔
مثال كے طور پر یہ دیكھو: كبھی تو نے ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ كوئی گدھا اپنے گدھے بھائی كا مال و متاع چُراتا ہو؟ یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ كسی گدھے نے اپنے ہمسائے گدھے پر شب خون مارا ہو؟ یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ كوئی گدھا اپنے گدھے كی پیٹھ پیچھے غیبت یا برائیاں كرتا ہو؟ یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ كوئی گدھا اپنے گدھے بھائی یا اُسكے كسی بچے سے گالم گلوچ كر رہا ہو؟ یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ كوئی گدھا اپنی بیوی اور بچوں كی مار كٹائی كرتا ہو؟
یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ گدھوں كی بیویاں یا بیٹے اور بیٹیاں سڑكوں پر یا كیفے وغیره پر فضول وقت گزاری كرتے ہوں؟ یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ كوئی گدھی یا گدھا كسی اجنبی گدھے كو دھوکہ دینے یا لوٹنے كی كوشش كر رہے ہوں؟ یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ امریكی گدھے عرب گدھوں كو قتل كرنے كی منصوبہ بندی كر رہے ہوں؟ یا تو نے كبھی ایسا دیكھا یا سنا ہے كہ گدھوں كا كوئی گروہ آپس میں محض جو كے چند دانوں كیلئے باہم دست و گریبان ہو جس طرح یہ انسان آٹا اور چینی كی لائنوں میں باہم دست و گریبان نظر آتے ہیں۔
یقیناً تو نے یہ انسانی جرائم ہم گدھوں میں كبھی نہ دیكھے اور نہ سنے ہونگے، جبكہ انسانی جرائم كی فہرست تو اتنی طویل ہے كہ بتاتے ہوئے بھی كلیجہ منہ كو آتا ہے۔ یقین كرو یہ انسان جو كچھ مار پیٹ اور پر تشدد برتاؤ ہمارے ساتھ روا ركھتے ہیں وہ محض ہمارے ساتھ حسد اور جلن كی وجہ سے ہے كیونكہ یہ جانتے ہیں كہ ہم گدھے ان سے كہیں بہتر ہیں، اور اسی لئے تو یہ ایک دوسرے كو ہمارا نام پكار كر گالیاں دیتے ہیں۔
جبكہ حقیقت یہ ہے كہ ہم میں سے كمترین گدھا بھی ایسے كسی فعل میں ملوث نہیں پایا گیا جس میں یہ حضرت انسان مبتلا ہیں۔ بیٹے یہ میرى تجھ سے التجا ہے كہ اپنے دل و دماغ كو قابو میں ركھ، اپنے سر كو فخر سے اُٹھا كر چل، اس عہد كے ساتھ كہ تو ایک گدھا اور ابن گدھا ہے اور ہمیشہ گدھا ہی رہے گا۔ ان انسانوں كی كسی بات پر دھیان نہ دے، یہ جو كہتے ہیں كہا كریں، ہمارے لئے تو اتنا فخر ہی كافی ہے كہ ہم گدھے ہو كر بھی نہ كبھی قتل و غارت كرتے ہیں اور نہ ہی كوئی چورى چكاری، غیبت، گالم گلوچ، خیانت، دھشت گردى یا آبروریزی۔ گدھے بیٹے كو یہ باتیں اثر كر گئیں، اس نے اُٹھ كر جو كے برتن میں منہ مارتے ہوئے كہا كہ اے والد، میں تیرے ساتھ اِس بات كا عہد كرتا ہوں كہ میں ہمیشہ گدھا اِبنِ گدھا رہنے میں ہی فخر اور اپنی عزت جانوں گا۔



















































