ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھروسہ

datetime 30  مارچ‬‮  2017 |

یہ ۱۹۵۹ء کی بات ہے میں انگریزی ادب میں آنرز کر رہا تھا۔ سندھ یونیورسٹی میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر جمیل واسطی مرحوم تھے جو پنجاب سے ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر حیدرآباد آئے تھے۔ ہماری کلاس میں تقریباً بیس سٹوڈنٹ تھے ان میں چھ کے قریب طالبات تھیں۔ اس زمانہ میں طالبات انگریزی ادب فیشن کے طور پر پڑھا کرتی تھیں۔ ہماری کلاس نے پکنک کا ایک پروگرام بنایا لیکن اس پر اختلاف ہوگیا

کہ لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پکنک منانے جائیں یا الگ الگ؟ یہ معاملہ پروفیسر جمیل واسطی کے علم میں آیا تو انہوں نے رائے دی کہ الگ الگ پکنک کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ مگر یہاں تو مخلوط تعلیم ہے واسطی صاحب!ایک لڑکی نے اٹھ کر احتجاج بھری آواز میں کہا۔ میں نے کب کہا کہ میں مخلوط تعلیم کا حامی ہوں؟ واسطی مرحوم بولے۔ سر ! یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ..؟ زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے، وہ بولی! واسطی صاحب نے گھوم کر لڑکی کی طرف دیکھا جو ایک معروف , متمول اور فیشن ایبل خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ پھر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا.. غلام اکبر ! تمہاری جیب میں ایک چونّی ہوگی..؟ اس عجیب وغریب سوال پر میں چونک پڑا اور جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ واسطی صاحب فوراً ہی بولے۔ دروازے سے باہر جا کر چونی کاریڈور میں رکھ دو۔ پوری کلاس حیرت زدہ تھی۔ میں بھی حیران ہو کر دروازے کی طرف مڑا تو واسطی صاحب بولے۔ سمجھ لو کہ تم چونّی کلاس کے باہر رکھ چکے ہو، اب بیٹھ جاؤ۔ پھر واسطی صاحب اس لڑکی کی طرف مڑے اور بولے جب ہم کلاس ختم کرکے باہر نکلیں گے تو کیا وہ چونی وہاں موجود ہو گی؟ لڑکی بدحواس سی ہو گئی , پھر سنبھل کر بولی، ہو سکتا ہے کہ اگر کسی کی نظر پڑے تو اٹھا لے۔ اس جواب پر واسطی صاحب مسکرائے اور سب سے مخاطب ہو کر بولے۔ دیکھ لیں کہ جن لوگوں پر ایک چونّی کے معاملے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا وہ لڑکیوں کے معاملے میں کس قدر شریف ہیں

, حالانکہ چونّی بچاری تو لپ سٹک بھی نہیں لگاتی۔ واسطی صاحب کی اس بات پر پوری کلاس کو سانپ سونگھ گیا۔ میں آج تک وہ بات نہیں بھولا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دقیانوسی سوچ رکھتا ہوں یا واسطی صاحب بہت زیادہ قدامت پسند سوچ کے حامل تھے لیکن کیا اس بات میں کچھ سچ ایسے نہیں چھپے ہوئے جن کا تعلق براہ راست انسان کی فطرت اور ان جبلتوں سے ہے جنہیں سدھایا اور سدھارا نہ جائے تو ان کی رو میں تہذیب وتمدن کے تمام تقاضے بہہ جایا کرتے ہیں..؟
غلام اکبر صاحب.. (کالم) “حملہ ہو چکا ہے” (روزنامہ نوائے وقت)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…