منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

ایک صحابی ؓ جن کا گھوڑا قرآن کی تلاوت سن کر بدکنا شروع کر دیتا تھا

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ ، نے ایک مرتبہ رات کو سورة البقرة کی تلاوت شروع کی . ان کا گھوڑا جو ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا ، اس نے اچھلنا کودنا اور بدکنا شروع کردیا. آپ نے تلاوت چھوڑ دی گھوڑا بھی سیدھا ہوگیا. آپ نے پھر پڑھنا شروع کیا.

گھوڑے نے پھر بدکنا شروع کیا. آپ نے پھر پڑھنا موقوف کیا . گھوڑا بھی ٹھیک ٹھاک ہوگیا. تیسری مرتبہ بھی یہ ہوا. چونکہ ان کے صاحبزادے یحییٰ گھوڑے کے پاس ہی لیٹے ہوء تھے اس لئے ڈر معلوم ہواکہ کہیں بچے کو چوٹ نہ آجائے . قرآن کا پڑھنا بند کرکے اسے اٹھا لیا. آسمان کی طرف دیکھا کہ جانور کے بدکنے کی کیا وجہ ہے؟ صبح حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر واقعہ بیان کرنے لگے. آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سنتے جاتے اور فرماتے جاتے…. اسید پڑھتے چلے جاؤ . حضرت اسید رضی اﷲ عنہ نے کہا : حضورصلی اﷲ علیہ وسلم تیسری مرتبہ کے بعدتو یحییٰ کی وجہ سے میں نے پڑھنا بالکل بند کردیا. اب جو نگاہ اٹھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نورانی چیز سایہ دار ابر (بادل)کی طرح کی ہے اور اس میں چراغوں کی طرح کی روشنی ہے. بس میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ اوپر کو اٹھ گئی. آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : جانتے ہو ، یہ کیا چیز تھی ؟ یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کو سن کر قریب آگئے تھے . اگر تم پڑھنا موقوف نہ کرتے تو صبح تک یونہی رہتے اور ہر شخص انہیں دیکھ لیتا . کسی سے نہ چھپتے۔
( صحیح بخاری)
( صحیح اسلامی واقعات، صفحہ نمبر 102-101)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…