حارث نامی شخص کا انگلینڈ کی آکسفورڈ شائر کاؤنٹی میں پرانی گاڑیوں کا شوروم ہے۔ جمعہ کی شام کو اسے ایک کال آتی ہے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون تمہارے شوروم میں کچھ دیر بعد وزٹ کریں گے۔ حارث سمجھا کہ اس کا کوئی دوست اس کے ساتھ مذاق کررہا ہے، چنانچہ اس نے کال کو اگنور کردیا۔ ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ کیا دیکھتا ہے کہ اس کا وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اس کے شوروم میں داخل ہورہا ہے۔
حارث آگے بڑھ کر اسے ویلکم کرتا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون انتہائی دوستانہ اور عاجزانہ طریقے سے اس سے ہیلو ہائے کرنے کے بعد اپنا مدعا بیان کرتا ہے کہ ایک دن پہلے رات کو اس کے شوروم کے آگے سے گزرتے ہوئے اس نے ایک پرانی نسان گاڑی دیکھی تھی، اور وہ اسی سلسلے میں آیا ہے۔حارث نیلے رنگ کی 2004 ماڈل نسان مکرا وزیراعظم ڈیوڈکیمرون کو دکھاتا ہے۔ یہ گاڑی ہیچ بیک ہے جس کی شکل تقریباً ویسی ہی ہے جیسی پاکستان میں ٹویوٹا وٹز کی ہے۔ لیکن وٹز عام طور پر 1300 سی سی ہوتی ہے جبکہ نسان کی یہ گاڑی 1200 سی سی تھی۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بتایا کہ وہ دراصل اپنی بیوی کیلئے ایک پرانی گاڑی خریدنا چاہتا ہے جسے وہ گھر کے کام کاج کیلئے استعمال کرسکے۔تقریباً آدھے گھنٹے تک اس گاڑی کو ہر طرح سے چیک کرنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون گاڑی کی قیمت پوچھتا ہے جو کہ 1400 برطانوی پاؤنڈ ہے۔ قیمت پوچھ کر ڈیوڈ کیمرون واپس چلا جاتا ہے۔اگلے دن ہفتے کی صبح وزیراعظم کیمرون اسی ڈیلر کے پاس دوبارہ پہنچ جاتا ہے اور 1400 پاؤنڈ دے کر وہ گاڑی ڈرائیو کرکے گھر لے جاتا ہے۔ایک طرف دنیا کے دوسرے طاقتور ترین ملک کے وزیراعظم کی حالت دیکھیں، وہ اپنی بیوی کیلئے 2004 ماڈل کی 1400 پاؤنڈ میں ایک پرانی گاڑی خریدتا ہے اور دوسری طرف دنیا کے غریب ترین اور بدحال ملک پاکستان کے وزیراعظم کی حالت دیکھیں، جو اپنے معدے کا چیک اپ کرانے کروڑوں روپے خرچ کرکے ہر تیسرے ہفتے لندن کا وزٹ کرتا ہے۔
ایک نوازشریف ہی کیا، سابق وزیراعظم گیلانی کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں جن میں بینٹلے، پورشے، بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز اور موزیراتی وغیرہ تھیں جن پر ملتان میں اس کے بیٹے سفر کیا کرتے تھے۔ہمارے ملک میں جب کوئی وزیر بنتاہے تو اس کا سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کیلئے زیرو میٹر گاڑی خریدی گئی یا نہیں؟ یہی حال مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا ہے۔ کبھی فضل الرحمان کے قافلے میں شریک گاڑیاں گنیں اور ان کی قیمتیں چیک کریں۔کیا آپ کو اپنے ملک کے حکمرانوں پر زرا بھی شرم نہیں آتی؟ کیا آپ کا دل نہیں کرتا کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں میں بھی تھوڑی سی غیرت ہوتی، تھوڑی سے شرم ہوتی اور کچھ حیا ہوتی؟ہم وہ قوم ہیں جو آزادی حاصل کرکے مزید رسوا ہوگئے، مزید غلام ہوگئے!!!



















































