قدر ت اللہ شہاب ،”شہاب نامہ” میں ایک واقعہ لکھتے ہیں جو دلچسپی سے خالی نہیں اور نصیحت آموز بھی ہے۔وہ جھنگ میں بطور ڈپٹی کمشنر تعینات تھے ایک دن اونچی ’’پگ‘‘ والا ایک بڑا زمیندار ان کے پاس آیا۔کہنے لگا حضور اگر فلاں گاؤں میں آپ ایک عدد سکول منظور کروا دیں
تو بندہ سکول کی عمارت کے لئے زمین کے ساتھ ، خاطر خواہ چندہ دینے کے لئے بھی تیار ہے۔ شہاب صاحب ان ’’علم دوست‘‘ بزرگوار سے کافی متاثر ہوئے۔ وعدہ کیا کہ ضرور وہ سکول منظور کروادیں گے۔چند دن بعد اسی وضع قطع کے ایک اور بزرگ آدھمکے۔شکوہ کناں تھے”حضور گاؤں میں سکول کے سلسلے میں جو بندہ آپ کے پاس آیا تھا،میرا مخالف ہے۔ جس گاؤں میں وہ سکول کھلوانا چاہتا ہے، وہ اس کا نہیں بلکہ میرا گاؤں ہے۔ آپ زمین اور نقد امداد مجھ سے لیکر اس کے گاؤں میں سکول کھلوا دیں”۔شہاب صاحب نے پوچھا اس فیاضی کا کیا سبب ہے۔ بڑے میاں فرمانے لگے اصل میں ہم دونوں اپنے گاؤں کے لوگوں کو استعمال کر کے ایک دوسرے کے مال مویشی چوری کرواتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے میرے گاؤں کی نئی نسل پڑھ لکھ جائے تاکہ ان کے مال مویشی بھی محفوظ ہو جائیں اور اپنے گاؤں کے لوگوں کو جاہل رکھ کر خود مال بناتا رہے۔شہاب صاحب نے پینترا کھیلا، کہنے لگے کہ سکول تو اب منظور ہو چکا،ایک کام کرتے ہیں تمہارے گاؤں کے لئے الگ سے سکول منظور کروا دیتا ہوں۔ بزرگوار دوبارہ واپس آنے کا وعدہ کر کے مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔۔ اس کے بعد دونوں حضرات کبھی واپس نہیں آئے۔ ایک وکیل دوست نے شہاب صاحب کو بتایا، دونوں حضرات نے مشترکہ مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صلح کر لی ہو گی کہ یہی ادھر کا دستور ہے۔



















































