اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

ساڑھے چار لاکھ روپے کی ایک اسڑابیری

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہم پھل غذائیت حاصل کرنے کی خاطر کھاتے ہیں مگر جاپانی معاشرے میں انہیں ایک اور حیثیت سے بھی اہم مقام حاصل ہے۔ جب کوئی خاص موقع آئے مثلاً کسی کی شادی ہو، باس سے ملنا یا مریض کی عیادت کرنے ہسپتال جانا ہو تو جاپانی میزبانوں کے لیے تحفہً پھل خریدنا پسند کرتے ہیں۔ ہم وطنوں کی اسی عادت کو

ایک ذہین کاروباری جاپانی نے آمدن کا بہترین ذریعہ بنالیا۔یہ 1834ء کی بات ہے، بینزو اوشیما نامی جاپانی نے ٹوکیو میں سستے داموں پھل فروخت کرنے کی ایک دکان کھولی۔ دیانت داری اور محنت کے باعث جلد ہی دکان چل پڑی۔ 1870ء میں بینزو اوشیما کے پوتے، دریجو اوشیما نے فیصلہ کیا کہ گاہکوں کی خاطر خاص طریقوں سے پھل اگائے جائیں تاکہ وہ اپنے پیاروں کو بہترین اور نادر روزگار تحفہ دینے کے قابل ہوسکیں۔ تب تک دکان ’’سیمبی کیا‘‘ (SEMBIKIA) کہلانے لگی تھی۔چنانچہ دریجو اوشیما نے چند باغ خریدے اور وہاں خصوصی طریقے سے پھل اگانے لگا۔ ان پھلوں کی نشوونما اور پرداخت خاص طریقوں سے کی جاتی تاکہ وہ شکل وصورت میں عام پھلوں سے منفرد ممتاز ہوجائیں۔ یہ انوکھی جدت منافع بخش ثابت ہوئی اور جاپانی سیمبی کیا کے اگائے گئے منفرد ڈیزائن والے پھل بڑی تعداد میں خریدنے لگے۔ آج ٹوکیو اور مضافات شہر میں کمپنی کی 14 دکانیں واقع ہیں۔ ان دکانوں میںمنفرد شکل و صورت ہی نہیں انوکھے ذائقے رکھنے والے پھل بھی فروخت ہوتے ہیں۔ جاپانی نہایت مہنگے داموں یہ پھل خریدتے اور فخر و مسرت سے دوسروں کو تحفہً دیتے ہیں۔ فطری بات ہے کہ قیمتی تحفہ ملنے پر میزبان کے دل میں مہمان کی عزت و منزلت بڑھ جاتی ہے۔تاہم سیمبی کیا کی دکانوں سے

صرف امیر جاپانی ہی پھل خرید سکتے ہیں۔ انگور، سیب، تربوز، خربوزہ اور اسٹربیری کمپنی کی خاص سوغات ہیں۔ کمپنی ایک ٹینس بال جتنی بڑی اسٹرابیری اگانے میں کمال مہارت رکھتی ہے۔ ایسی ایک بڑی سی اسٹرابیری ساڑھے چار لاکھ روپے تک فروخت ہوتی ہے۔کمپنی کے اگائے روبی رومنانگوروں کی بھی بہت مانگ ہے۔ یہ انگور دیکھنے میں سرخ موتی دکھائی دیتے ہیں،اسی لیے انھیں یہ نام ملا۔ ان انگوروں کے ایک گھچے کی قیمت دس لاکھ روپے سے زیادہ ہوتی ہے۔

ایک گھچے میں تقریباً 30 انگور ہوتے ہیں۔ گویا ایک دانہ انگور کی قیمت تیتس ہزار روپے بنی۔امیر جاپانی ہی اتنےمہنگے انگور خرید کر خوش قسمتوں کو تحفتہً دیتے ہیں۔سیمبی کیا کے باغبان چوکور یا دل کی شکل والے تربوز اگاتے ہیں۔ ایسا ایک تربوز 100 ڈالر (دس ہزار روپے) میں ملتا ہے۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں کے اتنے مہنگے پھل کون خریدتا ہوگا؟نیز کسی قاری کو یہ فضول خرچی لگے گی، مگر جاپان میں یہ

 

2-1490648489

 

ایک قسم کا طرزِزندگی بن چکا۔ اسی لیے سیمبی کیا کمپنی منافع بخش حالت میں چل رہی ہے۔جاپانی بیش قیمت تحفہ دنیا پسند کرتے ہیں تاکہ ان کی عزت افزائی ہو سکے لہٰذا پھل سے بہتر کون سا تحفہ ہوسکتا ہے جو تندرستی کی دولت بھی عطا کرتا ہے!

 

3-1490648494

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…