پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

ساڑھے چار لاکھ روپے کی ایک اسڑابیری

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہم پھل غذائیت حاصل کرنے کی خاطر کھاتے ہیں مگر جاپانی معاشرے میں انہیں ایک اور حیثیت سے بھی اہم مقام حاصل ہے۔ جب کوئی خاص موقع آئے مثلاً کسی کی شادی ہو، باس سے ملنا یا مریض کی عیادت کرنے ہسپتال جانا ہو تو جاپانی میزبانوں کے لیے تحفہً پھل خریدنا پسند کرتے ہیں۔ ہم وطنوں کی اسی عادت کو

ایک ذہین کاروباری جاپانی نے آمدن کا بہترین ذریعہ بنالیا۔یہ 1834ء کی بات ہے، بینزو اوشیما نامی جاپانی نے ٹوکیو میں سستے داموں پھل فروخت کرنے کی ایک دکان کھولی۔ دیانت داری اور محنت کے باعث جلد ہی دکان چل پڑی۔ 1870ء میں بینزو اوشیما کے پوتے، دریجو اوشیما نے فیصلہ کیا کہ گاہکوں کی خاطر خاص طریقوں سے پھل اگائے جائیں تاکہ وہ اپنے پیاروں کو بہترین اور نادر روزگار تحفہ دینے کے قابل ہوسکیں۔ تب تک دکان ’’سیمبی کیا‘‘ (SEMBIKIA) کہلانے لگی تھی۔چنانچہ دریجو اوشیما نے چند باغ خریدے اور وہاں خصوصی طریقے سے پھل اگانے لگا۔ ان پھلوں کی نشوونما اور پرداخت خاص طریقوں سے کی جاتی تاکہ وہ شکل وصورت میں عام پھلوں سے منفرد ممتاز ہوجائیں۔ یہ انوکھی جدت منافع بخش ثابت ہوئی اور جاپانی سیمبی کیا کے اگائے گئے منفرد ڈیزائن والے پھل بڑی تعداد میں خریدنے لگے۔ آج ٹوکیو اور مضافات شہر میں کمپنی کی 14 دکانیں واقع ہیں۔ ان دکانوں میںمنفرد شکل و صورت ہی نہیں انوکھے ذائقے رکھنے والے پھل بھی فروخت ہوتے ہیں۔ جاپانی نہایت مہنگے داموں یہ پھل خریدتے اور فخر و مسرت سے دوسروں کو تحفہً دیتے ہیں۔ فطری بات ہے کہ قیمتی تحفہ ملنے پر میزبان کے دل میں مہمان کی عزت و منزلت بڑھ جاتی ہے۔تاہم سیمبی کیا کی دکانوں سے

صرف امیر جاپانی ہی پھل خرید سکتے ہیں۔ انگور، سیب، تربوز، خربوزہ اور اسٹربیری کمپنی کی خاص سوغات ہیں۔ کمپنی ایک ٹینس بال جتنی بڑی اسٹرابیری اگانے میں کمال مہارت رکھتی ہے۔ ایسی ایک بڑی سی اسٹرابیری ساڑھے چار لاکھ روپے تک فروخت ہوتی ہے۔کمپنی کے اگائے روبی رومنانگوروں کی بھی بہت مانگ ہے۔ یہ انگور دیکھنے میں سرخ موتی دکھائی دیتے ہیں،اسی لیے انھیں یہ نام ملا۔ ان انگوروں کے ایک گھچے کی قیمت دس لاکھ روپے سے زیادہ ہوتی ہے۔

ایک گھچے میں تقریباً 30 انگور ہوتے ہیں۔ گویا ایک دانہ انگور کی قیمت تیتس ہزار روپے بنی۔امیر جاپانی ہی اتنےمہنگے انگور خرید کر خوش قسمتوں کو تحفتہً دیتے ہیں۔سیمبی کیا کے باغبان چوکور یا دل کی شکل والے تربوز اگاتے ہیں۔ ایسا ایک تربوز 100 ڈالر (دس ہزار روپے) میں ملتا ہے۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں کے اتنے مہنگے پھل کون خریدتا ہوگا؟نیز کسی قاری کو یہ فضول خرچی لگے گی، مگر جاپان میں یہ

 

2-1490648489

 

ایک قسم کا طرزِزندگی بن چکا۔ اسی لیے سیمبی کیا کمپنی منافع بخش حالت میں چل رہی ہے۔جاپانی بیش قیمت تحفہ دنیا پسند کرتے ہیں تاکہ ان کی عزت افزائی ہو سکے لہٰذا پھل سے بہتر کون سا تحفہ ہوسکتا ہے جو تندرستی کی دولت بھی عطا کرتا ہے!

 

3-1490648494



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…