نقشبندی سلسلہ کے ایک بزرگ تھے، اللہ کی شان کہ ان پر آخری گھڑیاں آ گئیں، ان کی ایک دو تین سال کی بیٹی تھی جس کا نام حفظہ تھا، وہ اپنے ابو کے پاس آیا کرتی تھی اور سینے پر لیٹ جاتی تھی، کھیلتی تھی، باتیں کرتی تھی، آخری وقت میں جب وہ آئی اور اپنے ابو کے سینے پر لیٹی تو ابو نے اس
کو کوئی توجہ نہ دی، وہ بچی تھی ایک دو دفعہ اس نے ابو کو متوجہ کرنے کی کوشش کی جبوہ متوجہ نہ ہوئے تو ان کے سینے سے اتری اور دوسرے کمرے میں جا کر رونا شروع کر دیا، ماں نے پوچھا بیٹی کیوں رو رہی ہے، اس نے کہا، ابو مجھ سے نہیں بولتے میں نے ابو سے نہیں بولنا، میں نے بھی کٹی کر لی ہے، میں ابو سے نہیں بولوں گی، ماں اس بچی کو لے کر اپنے میاں کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ دیکھیں آپ حفصہ سے کیوں نہیں بولتے؟ حفصہ کہہ رہی ہے میں نے ابو سے نہیں بولنا آپ ذرا بولیں ناں حفصہ کو منا لیں، جب بیوی نے کہا کہ آپ حفصہ کو منا لیں تو انہوں نے آنکھیں کھولیں اور فرمانے لگے، کون سی حفصہ اور کیسی حفصہ؟ ہم نے اپنے یار کو منا لیا اور اسی کو دل میں بسا لیا ہے، یہ کہتے ہوئے لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کلمہ پڑھا اور ان کی روح پرواز کر گئی، یہ اللہ والوں کی زندگی ہوتی ہے، آخری وقت میں بس اللہ کی محبت ان کے دل میں ایسی بھری ہوتی ہے کہ بس غیر کی
محبتوں سے دل خالی ہو جاتا ہے، لہٰذا ہر بندۂ خدا کو چاہیے کہ ذکر و فکر اور مراقبہ کے ذریعہ دل کو خدا کے ساتھ اس طرح مربوط کر لے کہ اس شعر کا مصداق بن جائے۔
یاد میں تیری سب کو بھلا دوں
کوئی نہ مجھ کو یاد رہے
سب خوشیوں کو آگ لگا دوں
غم سے تیرے دل شاد ہے



















































