مدینہ طیبہ میں ایک نوجوان رہتا تھا جو غفلت کا شکار تھا، اس کی زندگی بھی کافروں والی تھی، عادتیں بھی، لباس بھی، کھانا پینا بھی، سب کچھ اس کا بس کافروں کی طرح تھا، لیکن ویسے کلمہ پڑھتا تھا اور مدینہ طیبہ میں پیدا ہوا وہیں کا رہنے والا تھا، جب وہ فوت ہوا تو اس کی جنازے کی نماز پڑھ گئی اور
اس کو جنت البقیغ میں دفن کیا گیا، اللہ کی شان کہ وہ لوگ دفن کرکے واپس آئے ان میں سے ایک بندہ تھا جس کی جیب میں کوئی ایسا کاغذ تھا، جو بڑی اہمیت کا حامل تھا وہ گم ہو گیا، اس کو اندازہ ہوا کہ جب دفن کرنے کے لیے میں قبر میں اترا تھا تو اس وقت وہ کاغذ کہیں نیچے نہ گر گیا ہو؟ کاغذ بہت اہم تھا چنانچہ اس نے حکومت سے اجازت مانگی کہ قبر کو کھولا جائے اور میرا وہ کاغذ اتنا اہم ہے وہ نکالا جائے، اس کو اجازت مل گئی جب قبر کھودی گئی تو دیکھا گیا کہ وہاں پر مرد کے بجائے ایک انگریز گوری لڑکی دفن ہے، تو قبر کھولنے والے بھی بڑے حیران! اب یہ بات کافی لوگوں میں پھیل گئی، اس کی تصویریں بھی لی گئیں، اخباروں میں چھپائی گیءں، چنانچہ یورپ کے کسی ملک سے ان کو ایک اطلاع ملی کہ یہ تصویر تو میری بیٹی کی تصویر ہے جب اس سے رابطہ کیا گیا، اس بندے سے جا کرملے تو اس نے کہا کہ اس کی بیٹی کی چند دن پہلے وفات ہوئی اور ہم نے تو اسے عیسائیوں کے قبرستان میں
دفن کیا، چنانچہ یہاں حکومت سے اجازت لے کر جب اس لڑکی کی قبر کو کھودا گیا تو دیکھا کہ وہاں اس نوجوان کی لاش پڑی تھی، لوگ بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیا معاملہ ہے، اس انگریز سے پوچھا گیا کہ آپ کچھ جانتے ہو یہ کیا معاملہ ہے؟ تو اس نے کہا کہ اور تو مجھے پتہ نہیں لیکن اتنا مجھے اندازہ
ہے کہ میری اس بیٹی نے کچھ دنوں سے اسلام کے بارے میں کتابیں پڑھنی شروع کر دی تھیں اور یہ مجھے بار بار کہتی تھی کہ میں دین اسلام سے محبت رکھتی ہوں، یہ بار بار کہتی تھی اور ہو سکتا ہے کہ اس نے کلمہ بھی پڑھ لیا ہو، تب جا کے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ جو نوجوان مدینہ میں
پیدا ہوا اور فقط ظاہر کا مسلمان تھا، اندر سے غیر مسلموں کے طور طریقے کو پسند کرتا تھا، اس کو اگر جنت البقیع میں دفن کیا گیا تو اللہ نے اس لاش کو عیسائیوں کے قبرستان میں پہنچا دیا اور عیسائی لڑکی اگرچہ عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کی گئی، دین اسلام کی محبت رکھنے کی وجہ سے اللہ نے اس
کی لاش کو جنت البقیع میں پہنچا دیا، لہٰذا اگر ہمیں شوق و تمنا ہے اور دل کی آرزو ہے کہ مقدس مقام پر حسن خاتمہ ہو تو اسلام کی محبت اور اپنے خالق و مالک کی محبت کو دل میں رچا اور بسا لیجئے۔



















































