جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پاکستان کی شہریت چھوڑ کر بھارتی شہریت کیوں اختیار کی؟پاکستانی ہائی کمیشن گیا تو کیا ہوا؟عدنان سمیع کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

ممبئی(مانیٹر نگ ڈیسک)پاکستانی شہریت چھوڑکربھارتی شہریت حاصل کرنے والے معروف گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کا پاسپورٹ لینا میرا ذاتی معاملہ ہے، میرے لئے تمام لوگ ایک جیسے ہیں۔ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے عدنان سمیع نے کہا میرا گھر گذشتہ 18 برسوں سے انڈیا کے شہر ممبئی میں ہے۔ وہاں مجھے ایک ایسی جگہ مل گئی جہاں میں مطمئن محسوس کرتا ہوں۔

وہاں پر لوگ مجھ سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ میرا کام ہی کچھ ایسا ہے کہ پوری دنیا میں جاتا ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ میرا تعلق کہاں سے ہے ان کو تو میرے کام سے مطلب ہے۔ عدنان سمیع نے کہا کہ میں اسی ملک میں رہنا پسند کرؤں گا جہاں مجھے اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بہترین موقع مل سکے ، پاکستان کے عوام آج بھی مجھے پیار کرتے ہیں جسے میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا ، اپنے 30 سالوں میں ہمیشہ مخصوص اور کوالٹی والا کام کیا ہے۔ عدنان سمیع نے کہاہے کہ دل سے اگر بات کروں تو مجھے اس سے کوئی زحمت نہیں ہے۔ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ میں جہاں بھی رہنے کا انتخاب کروں وہ میرا ذاتی حق ہے۔ اوپر والے نے جب اس دنیا کو بنایا تو ایک ہی دنیا بنائی۔ یہ سرحدیں انسان نے بنائی ہیں۔ یہ پوری دنیا ایک نعمت ہے اور اس دنیا میں انسان کی جہاں مرضی آئے وہاں جا کے رہے۔عدنان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے پیشے کے لحاظ سے دنیا کے مختلف ملکوں میں ہجرت کر جاتے ہیں، میں ایک موسیقار، کمپوزر ہوں اور جنوبی ایشیائی موسیقی پر توجہ دیتا ہوں، اس کا دارالحکومت کہاں ہے؟انہوں نے کہاکہ میراپاکستانی پاسپورٹ ایکسپائرہواتھواس کی تجدیدکےلئے میں پاکستانی ہائی کمیشن کودرخواست دی لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ عدنان سمیع نے مزیدکہاکہ جب میں نے تاخیر کی وجہ پوچھی کہ آخر میرے پاسپورٹ کی کیوں نہیں تجدیدکی جارہی توکہاگیاکہ آپ کے پاسپورٹ کی یہاں سے تجدید نہیں ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…