حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات میں مذکور ہے کہ دنیا انکے سامنے ایک بوڑھی عورت کی شکل میں آئی، جس کے بال سفید ہو چکے تھے لیکن ہر قسم کی زینت سے آراستہ تھی۔عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے پوچھا:تو نے کتنی شادیاں کیں؟دنیا کہنے لگی:اتنی زیادہ کہ شمار نہیں کر سکتی۔آپؑ نے پوچھا:تیرے سارے شوہر مر گئے یا انہوں نے تجھے طلاق دے دی؟دنیا نے جواب دیا:
میں نے (خود ہی) سب کو قتل کر دیا۔تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:بڑے بدنصیب ہیں تیرے وہ شوہر جنہوں نے اب بھی تجھ سے رشتہ قائم رکھا ہے،وہ تیرے گزشتہ شوہروں سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے؟?مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰہ عنہ کے حوالہ سے حضورﷺسے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسی بستی سے گذرے جہاں کی عمارتیں منہدم ہو چکی تھیں اور آبادی ویران ہو چکی تھی، یہ دیکھ کر آپؑ نے اپنے حواریوں میں سے کسی سے فرمایا:جانتے ہو یہ بستی کیا کہہ رہی ہے؟حواری نے کہا: نہیں۔آپؑ نے فرمایا:یہ بستی کہہ رہی ہے کہ میرے پروردگار کا سچا وعدہ پورا ہو کر رہا، میری نہریں جن میں بہت پانی تھا خشک ہو گئیں، میرے درخت جو بہت شاداب تھے سوکھ گئے، میرے محل تباہ ہو گئے، میرے باشندے موت سے ہمکنار ہو گئے۔ اب ان کی ہڈیاں میرے اندر پڑی ہوئی ہیں اور وہ مال جسے انہوں نے حلال و حرام طریقہ سے جمع کیا تھا وہ سب میرے شکم میں پہنچ چکا ہے۔ زمین و آسمان کی میراث تو (درحقیقت) خدا ہی کے لئے ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ کب تک ایسا ہو گا کہ تمہیں نصیحت کی جائے اور تم نصیحت حاصل نہ کرو؟تم نے تو وعظ و نصیحت کرنے والوں کو تھکا دیا ہے (کہ وہ کہتے رہتے ہیں اور تم پر اثر نہیں ہوتا)گفتار انبیاء صفحہ:174،175



















































