منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

میرے کمرے میں ایک داڑھی والالڑکا آتا اور میں اسے دھکے دے کر کمرے سے نکال دیا کرتا تھا ۔۔ وہ مسلمان لڑکا کون تھا اور مولانا طارق جمیل اسے کمرے سے بے عزت کرکے کیوں نکالتے تھے ؟

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مولانا طارق جمیل پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں نہایت معروف اور بڑے خوبصورت لب و لہجے کے مالک اسلامی سکالر ہیں ۔ انہوں نے طالب علموں کے ایک جلسے میںوعظ کرتے ہوئے ایک واقعہ سنا یا ، کہتے ہیں کہمیں پنجاب کالج میں پڑھا کرتا تھا ، وہاں کالج کے ہاسٹل کے

بیچوںبیچ ایک باغیچہ ہوا کرتا تھا جس میں ایک پھٹی پرانی چٹائی بچھی ہوئی تھیاور اس پر لوگ نماز پڑھاکرتے تھے مگر پورے کالج میں محض 3,4لوگ ہی تھے جو نما ز پڑھتے ۔ کہتے ہیں کہ ان کے زمانے میںکوئی ایک لڑکی بھی نہیں تھی جو حجاب کرتی ہو ۔ بتانے لگے کہ ان دنوں پنجاب کالج میں بس ایک ہی لڑکا تھا جس کی داڑھی تھی ۔ اس کا نام نعیم الدین تھا جو کالج کے ہاسٹل میں ہر کمرے میں جا کر لڑکوں کو دین کی تبلیغ کیا کرتا تھا اور ہر کمرے سے اسے بے عزت کر کے نکالا جاتا ، مولانا بتانے لگے کہ خود میں بھی اسے اپنے کمرے سے بے عزت کرکے نکال دیا کرتا تھا چونکہ ہم لوگ اس وقت دین سے بے حد دور تھے اور جو ہمیں اس راہ پر چلانے کی کوشش کرتا ہمیں بےحد غصہ آتا کہ یہ بندہ ہمیں مولوی بنانے کے چکروں میں ہے مگر پھر اللہ نے حالات بدلے اور میں دین کی راہ پر چل نکلا ، آج میں کالج ، یونیورسٹیوں میں بچے بچیوں کو دیکھتا ہوں کہ اب حجاب ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی مشہور یونیورسٹیوں کی بچیاں برقعہ تک پہنتی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…