کہتے ہیں کہ اصفہان میں ایک لوہار تھا جس نے اپنی ساری جوانی اِس کام میں گزار دی اور آخر ارادہ کیا کہ اب اس کے پاس اِتنے پیسے ہیں کہ اپنی باقی ماندہ زندگی اللہ کی یاد میں گزار دے۔اس نے اپنی دکان بیچ دی اور خانہ نشین ہو کر اپنا بیشتر وقت عبادات میں گزارنے لگا۔ ضرورت مندوں کی حتی الامکان مدد کرتا تھا اور لوگوں کے ساتھ رواداری سے پیش آتا تھا۔
یہ سب کرنے کے باوجود اس کی مصیبتیں روز بروز بڑھتی جا رہی تھیں اور صحت بھی خراب رہنے لگی تھی۔اس کے ایک دوست کو جب اس کے حال کی خبرہوئی تو وہ اسے ملنے آیا اور کہنے لگا؛ ’’تعجب ہے کہ جب سے تم نے نیک اور خداترس انسان بننے کی کوشش شروع کی ہے تمہاری صحت اور تمہارے حالات روز بروز ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ میں تمہارے ایمان کو کمزور نہیں کرنا چاہتا لیکن راہِ خدا میں اِتنی سختیاں جھیلنے کے بعد بھی تمہاری حالت بہتر ہونے کی بجائے بدتر کیوں ہوتی جا رہی ہے؟لوہار نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا؛ ’’جب میں لوہار کا کام کرتا تھا تو خام فولاد کو آگ میں جلا کر نرم کرتا تھا اور پھر ہتھوڑے کی پے در پے اور مضبوط ضربات لگاتا تھا۔ پھر سرخ فولاد کو پانی میں ڈال کر ٹھنڈا کرتا تھا اور یہ عمل بار بارہراتا تھا۔ میرا واحد مقصد یہ ہوتا کہ فولاد کو تلوار یا خنجر کی شکل میں ڈھال لوں۔ کبھی کبھی فولاد ناقص معیار کا ہوتا تھا اور باوجود انتہائی کے میں اسے اپنی مرضی کی شکل میں نہیں ڈھال سکتا تھا اور آخر اسے کچرے میں پھینک دیا کرتا تھا۔‘‘کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر گویاہوا؛میں سمجھتا ہوں کہ میں بھی خام فولاد کی طرح کسی لوھار کے ہاتھ میں ہوں کبھی مجھے آگ میں تپا کر گرم کیا جاتا ہے، تکلیف و مشکلات کے ہتھوڑے سے مجھ پر ضرباب لگا کر مجھے سرد پانی میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور پھر آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ سب میں دل سے قبول کر چکا ہوں۔ اللہ سے بس یہ دعا ہے کہ مجھے ناقص معیار کا فولاد نہ سمجھے۔
تلوار اور خنجر اگر نہ بن سکوں تو جتنی دیر مرضی لگے اور جس رنگ میں چاہے مجھے ڈھال دے جتنی مرتبہ چاہے مجھے آگ اور پانی سے گزار کر مجھ پر شدید ضربیں لگائیں لیکن کبھی مایوس ہو کر مجھے کچرے میں نہ ڈالے۔



















































