حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک یہودی رہتا تھا جو وہاں تجارت کرتا تھا جب وہ شب جس میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی تو اس نے قریش کی ایک مجلس میں کہا :کیا آج کی شب تم لوگوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ہمیں اس کا علم نہیں ہے۔اس نے کہا میں نے غلطی کی۔واللہ جہاں میں ناپسند کرتا تھا(وہیں ولادت ہوئی)اے گروہ قریش دیکھو جو میں تم سے کہتا ہوں،
اس کی جانچ کرو۔آج شب کو اس امت کے نبی احمد ﷺجو سب سے آخر میں پیدا ہوئے ہیں ،اگر میں غلطی کرتا ہوں تو وہ فلسطین میں پیدا ہوئے ہیں ان کے دونوں شانوں کے درمیان ایک سیاہ و زرمسہ ہے۔جن میں برابر برابر بال ہیں۔ساری قوم اپنی نشست گاہ سے منتشر ہوگئی اور وہ لوگ اس بات پر تعجب کر رہے تھے۔جب یہ لوگ اپنے اپنے مکان گئے تو انہوں نے اپنے متعلقین سے ذکر کیا اور ان میں سے بعض سے کہا گیا کہ آج شب کو عبداللہ بن عبدالمطلب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے اس کا نام انہوں نے محمدﷺرکھا ہے۔اس روز کے بعد یہ سب لوگ ملے اور اس یہودی کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔اس نے کہا کہ میرے خبر دینے سے پہلے ہوا ہے یا بعد میں ہوا ہے ؟لوگوں نے کہا اس سے پہلے ہوا ہے اور اس کا نام احمد ہے اس نے کہا ہمیں اس کے پاس لے چلو۔یہ لوگ اس کے ہمراہ نکلے یہاں تک کہ بچے کی والدہ کے پاس گئے،انہوں نے اس بچے کو ان لوگوں کے پاس باہر بھیج دیا۔اس یہودی نے وہ مسہ بچے کی پیٹھ پر دیکھا تو اسے غشی آگئی، افاقہ ہوا تو لوگوں نے کہا تیری بربادی ہو تجھے کیا ہوا ہے؟اس نے جواب دیا کہ بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی اور ان کے ہاتھوں سے کتاب الٰہی نکل گئی۔یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو قتل کرے گا اور ان کے اخبار پر غالب آئے گا۔ عرب نبوت پر فائز ہوئے۔ اے گروہِ قریش! کیا تم لوگ خوش ہوئے۔خبردار!واللہ! وہ تم لوگوں کو ایسا غلبہ دے گا،جس کی خبر مشرق سے مغرب تک جائے گی۔



















































