سلطان غیاث الدین بلبن کو بیٹے کی بڑی خواہش تھی،اللہ کی قدرت کہ ہر بار لڑکی پیدا ہوتی اور وہ لڑکی کو مار دیتا تھا۔ایک بیوی کے ہاں پھر ایک لڑکی پیدا ہوئی،مامتا سے مجبور ہو کر اس نے لڑکی کو مٹکے میں بند کر کے دریا کنارے رکھوا دیا اور بادشاہ سے کوئی بہانہ بنا دیا۔دریا پر دھوبی کپڑے دھونے آتے تھے،اِتفاقاً ایک دھوبی جو کہ لاولد بھی تھا اس کی نظر مٹکے پر پڑی،بچی کو اْٹھا لیا اور پرورش کرنے لگا۔
ایک روز وہ جوان ہو گئی،سْلطان بلبن شکار کھیلتا ادھر سے گزرا اور دھوبی کی بیٹی پر عاشق ہو گیا،اور اس سے شادی کر لی مگر ہر رات خون جاری ہو جاتا تھا۔تنگ آ کر شیخ شرف الدین بو علی قلندر پانی پتی رحمتہ اللّہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہْوا اور اپنی پریشانی بیان کی۔آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے فرمایا: ” پرسوں جواب دوں گا۔’بو علی قلندر رحمتہ اللہ علیہ روحانی طور پر بزم مصطفیٰ میں پہنچے۔دیکھا سید کائنات تخت پر جلوہ افروز ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ دائیں جانب تخت سے ذرا نیچے بیٹھے ہیں۔آپ ؒ نے سلطان کی پریشانی کو خدمت اقدس میں پیش کیا،حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:’ اے علیؓ ! اشرف الدین ( رحمتہ اللّہ علیہ ) کو اس بات سے آگاہ کر دے اور اسرارِ غیبی اس پر کھول دے۔حضرت علیؓ نے تمام چھپا بھید ظاہر کیا۔سْلطان سے ملاقات پر آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے فرمایا:’ تیرے معاملے میں عجیب راز کا انکشاف ہوا ہے وہ لڑکی جس سے تو نے شادی کی ہے تیری دلہن نہیں بلکہ تیری بیٹی ہے۔اِس لیے عین وقت پر خون اللّہ کی حِکمت سے آ جاتا ہے تاکہ توکبیرہ گناہ سے بچا رہے۔تو اپنی فلاں بیوی سے جا کر اس کی تحقیق کر،تحقیق کرنے پر تمام معاملہ سچ ثابت ہوا۔سلطان نادم ہو، توبہ استغفار کی،لڑکیوں کے قتل کے سلسلہ میں معافی مانگی،دعا قبول ہوئی،حضرت بو علی قلندر رحمتہ اللّہ علیہ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے سلطان کو چار بیٹے عطا فرمائے۔



















































