ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

آب زم زم کی حقیقت

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

آب زم زم کا سراغ لگانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ۔عالمی تحقیقی ادارے آب زم زم اور اسکے کنویں کی پر اسراریت اور قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ہو کر رہ گئے۔ مزید نئے روشن پہلوؤں کے انکشافات سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق آب زم زم اور اسکے کنویں کی پر اسراریت پر تحقیق کرنے والے عالمی ادارے اسکی قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ہو کر رہ گئے۔

عالمی تحقیقی ادارے کئی دہائیوں سے اس بات کا کھوج لگانے میں مصروف ہیں کہ آب زم زم میں پائے جانے والے خواص کی کیا وجوہات ہیں اور ایک منٹ میں 720لیٹر جبکہ ایک گھنٹے میں43ہزار 2سو لیٹر پانی فراہم کرنے والے اس کنویں میں پانی کہاں سے آ رہا ہے۔ جبکہ مکہ شہر کی زمین میں سینکڑوں فٹ گہرائی کے باوجود پانی موجود نہیں ہے۔ جاپانی تحقیقاتی ادارے ہیڈو انسٹیٹیوٹ نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ اب زم زم ایک قطرہ پانی میں شامل ہو جائے تو اس کے خواص بھی وہی ہو جاتے ہیں جو آب زم زم کے ہیں جبکہ زم زم کے ایک قطرے کا بلور دنیا کے کسی بھی خطے کے پانی میں پائے جانے والے بلور سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ایک اور انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ری سائیکلنگ سے بھی زم زم کے خواص میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ آب زم زم میں معدنیات کے تناسب کا ملی گرام فی لیٹر جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ اس میں سوڈیم133، کیلشیم96، پوٹاشیم43.3، بائی کاربونیٹ195.4کلورائیڈ163.3، فلورائیڈ0.72، نائیٹریٹ124.8 اور سلفیٹ 124ملی گرام فی لیٹر موجود ہے۔ آب زم زم کے کنویں کی مکمل گہرائی99فٹ ہے اور اس کے چشموں سے کنویں کی تہہ تک کا فاصلہ 17میٹر ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً تمام کنوؤں میں کائی کا جم جانا، انواع و اقسام کی جڑی بوٹیوں اور خود رو بودوں کا اگ آنا نباتاتی اور حیاتیاتی افزائش یا مختلف اقسام کے حشرات کا پیدا ہو جانا ایک عام سی بات ہے جس سے پانی رنگ اور ذائقہ بدل جاتا ہے اللہ کا کرشمہ ہے کہ اس کنویں میں نہ کائی جمتی ہے نہ نباتاتی و حیاتیاتی افزائش ہوتی ہے نہ رنگ تبدیل ہوتا ہے نہ ذائقہ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…