ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیزکا ایمان افروز واقعہ

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ خلافت کا کام کر کے اپنے گھر آئے اور آرام کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ بیوی نے غمگین لہجے میں کہا : امیر المؤمنین اگلے ہفتے عید آرہی ہے بچہ نئی پوشاک کے لئے بہت بے چین ہے ابھی روتے ہوئے سویا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے سر جھکا کر فر مایا : تمھیں تو معلوم ہے کہ مجھے تو صرف سودرہم ماہوار ملتے ہیں جس میں گھر کا خر چہ بڑی مشکل سے

پورا ہوتا ہے۔ بیوی وہ تو میں سمھجتی ہوں آپ بیت المال سے قرض لے لیں حضرت عمر بن عبد العزیز نے فر مایا : بیت المال پر تو صرف غریبوں، یتیموں اور فقیروں کا حق ہے میں تو صرف اس کا امین ہوں۔ بیوی بولی بے شک میرےسرتاج آپ کی بات سچ ہےمگر بچہ تو ناسمجھ ہے اس کے آنسو نہیں دیکھے جاتے۔ حضرت ابن عبد العزیز بولے اگر تمھارے پاس کوئی چیز ہے اسے فروخت کر دو، بچے کی خوشی پوری ہو جائے گی۔ بیوی بولی امیر المؤمنین میرے تمام زیورات آپ نے بیت المال میں جمع کر ادیئے ہیں، بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ امیر المؤمنین نے سر جھکا لیا بڑی دیر تک سوچتے رہے۔ اپنے ماضی میں جھانکنے لگے، وہ بچپن، جوانی خوش پوشی، نفاست، جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننےکاموقع نہ ملا، جس راستےسےگزرتےخوشبوؤں سے معطر ہو جاتا، یہ سوچتے سوچتے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگے۔ بیوی نے اپنے ہر دل عزیز شوہر کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو کہنے لگی مجھے معاف کر دیں، میری وجہ سے آپ پریشان ہو گئے۔ فرمایا : کوئی بات نہیں پھر حضرت ابن عبد العزیز نے بیت المال کے نگران کے لے ایک خط لکھ کر اپنے ملازم کو دیا اور فرمایا ابھی جاؤ، یہ خط نگران کو دے کر آؤ، اس میں لکھا تھامجھے ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی بھیج دو، ملازم نے جوابی خط لا کر امیر المؤمنین کو دیا۔ جس میں لکھا تھا : اے خلیفۃ المسلمین!

آپ کے حکم کی تعمیل سر آنکھوں پر لیکن کیا آپ کو معلوم ہے آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں؟ جب یہ آپ کو معلوم نہیں تو پھر غریبوں کے مال کی حق تلفی کیوں پیشگی اپنی گردن پہ رکھتے ہیں؟ آپ نے جواب پڑھا تو رونے لگے۔ فر مایا : نگران نے مجھے ہلاکت سے بچالیا …!! اگلے ہفتے دمشق کے لوگوں نے دیکھا امراء کے بچے نئے حسین کپڑے پہن کر عید گاہ جارہے تھے مگر امیر المؤمنین کےبچے پرانے دھلے ہوئے کپڑوں میں ملبوس اپنے والد کا ہاتھ پکڑے عید گاہ جارہے تھے…

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…