ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

دِل کے مہمان

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

رات کا تیسرا پہر تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پہ پڑا موبائل فون اٹھایا۔ اسکرین پر چمکتے ہندسے بتا رہے تھے کہ تہجد کا وقت ہو چکا ہے۔ وہ روزانہ کی طرح اتنی کچی نیند میں تھی کی الارم سے بھی پہلے جاگ آگئی تھی۔ کمبل ہٹا کر وہ وضو کرنے چلی گئی۔ تہجد کے نوافل پڑھ کر ہاتھ اْٹھائے تو دماغ بھٹکنے لگا۔ کیا مانگوں ؟ میرے مالک!مجھے تو مانگنا بھی نہیں آتا۔ تو بہتر جانتا ہے میرے رب۔

مجھے اب بس تو چاہئے میرے اللہ۔۔ مجھے بس تیری رضا چاہئے ۔ہونٹ چپ تھے مگر بہتے آنسو بول رہے تھے۔پتہ نہیں کتنے دنوں سے یہی ہوتا آیا تھا مگر اس کے اندر کی بے چینی ختم نہیں ہو رہی تھی۔ سکون نہیں تھا کہیں بھی اور اگلے روز وہ مس زینب کے سامنے بیٹھی تھی۔ آنسو آنکھوں سے بہنے کو بے تاب تھے۔ وہ اور میں کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔ میں یہ بات بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ اسے رابطہ کرنے سے بھی منع کر دیا ہے میں نے مگر یہ بے چینی کیوں ہے پھر۔مس زینب نے اپنا ہاتھ نرمی سے اس کے ہاتھ پر رکھا تھا۔ میں بس اللہ سے اللہ کو مانگتی ہوں مگر وہ مجھے کیوں نہیں ملتے۔کیوں نہیں آتے وہ میرے دل میں۔وہ بے بسی سی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔مس زینب نے ہولے سے اس کا ہاتھ دبایا۔ کچھ دیر اسے رونے دیا۔پھر جب بولیں تو عائزہ کو حیرت سی ہوئی۔ تم نے بتایا تھا کہ گھر میں بہت کام ہے آجکل۔ اب کیا صورتحال ہے؟عائزہ کو ان کا سوال موقعے کے لحاظ سے نا مناسب تو لگا مگر جواب دینا بھی ضروری تھا۔جی وہ ماموں کی فیملی آ رہی ہے کینیڈا سے بہت سال بعد۔ امی کا تو بس نہیں چلتا کہ گھر ہی نیا خرید لیں۔ پینٹ ،مرمت ، صفائی ،دُھلائی ، راشن کا انتظام۔ بس سارا دن یونہی گزر جاتا ہے ۔لیکن اتنا اہتمام کیوں۔ کچھ روز ہی تو رہیں گے تمہارے ماموں۔ پھر واپس ہی تو جانا ہے انہیں۔مس زینب نے ایک اور سوال کیا وہ تو ہے لیکن وہ ہیں بھی تو خاص مہمان۔ کوئی آس پاس کے ہوتے تو پھر بھی اتنا تردد نہ کرنا پڑتا۔ عائزہ نے نارمل لہجے میں جواب دیا۔مس زینب کے چہرے پہ جاندارمسکراہٹ آئی تھی۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی گویا ہوئیں ۔

خاص مہمان۔ کون۔ تمہارے ماموں، جو چند روز کے لئے آ رہے ہیں اور ان کے لئے سارا گھر چمکایا جا رہا ہیاور تم تو اللہ کو اپنے دل میں بلا رہی ہو اس کے لئے کیا اہتمام کیا تم نے؟عائزہ حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی۔دیکھو عائزہ! جب دنیاوی چند روزہ مہمان کے لئے اتنی تیاری کی جاتی ہے تو اس کائنات کے مالک کے لئے بھی تو کچھ اہتمام کرو۔وہ کیسے آئیں اس دل میں جس میں کسی نا محرم کی محبت موجود ہو۔ وہ کیسے آئیں اس دل میں جہاں اسے بلانے والا بلاتا تو ہے مگر اس کے استقبال کے لئے کوئی تیاری نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ دِل اپنے رہنے کے لئے بنایا تھا مگر جب ہم اس میں غیر اللہ کو بسا لیتے ہیں تو پھر اللہ اس دل میں نہیں آتے۔ وہ دل ان کے شایانِ شان نہیں رہتا جب تک تم اپنا دل پاک نہیں کرو گی تب تک اللہ تعالیٰ نہیں آئیں گے وہاں ۔ مس زینب کا دھیما لہجہ اس کے دل پر اثر کر رہا تھا سیدھا۔ مگر میں کیا کروں؟ کیسے صاف کروں اپنے دل کو۔میں اسے سوچنا نہیں چاہتی مگر وہ میری سوچ سے نکلتا ہی نہیں ۔ عائزہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے نا سمجھی کے عالم میں ان کو دیکھا۔استغفار کی کثرت کرو۔اللہ تعالی تمام گناہوں کا میل دھو دیں گے دل سے۔جب اس کا خیال آئے تو تکبیر پڑھنا شروع کر دو۔اللہ اکبر۔اللہ اکبر ۔اللہ اکبر۔ بے شک! ہر خیال سے ،ہر سوچ سے ،ہر محبت سے، ہر جذبے سے۔ جب یہ سوچو گی تو باقی سب اس کے آگے چھوٹا لگنے لگے گا۔ ہر سوچ ہر ، جذبہ ، ہر محبت ماند پڑ کر دبنے لگے گی اس کے آگے۔ پھر تمہارا دل صاف ہو جائے گا اور پھر یہ اس قابل ہو گا کہ اللہ تعالی اس میں آ سکیں۔عائزہ کی آنکھوں میں ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ امید کی چمک بھی تھی۔

اس نے تشکر کے انداز میں مس زینب کو دیکھا۔ آپ کا بہت شکریہ۔آپ نے مجھے اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے سمجھا دی۔ آپ نا ہوتیں تو میں کیا کرتی۔ سمجھ نہیں آرہا کیسے تھینک یو بولوں ۔میں نا ہوتی تو کوئی اور ہوتا۔ اللہ تعالی جب ہمیں اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں تو ایسے ہی وسیلے بنا دیتے ہیں اور شکر اللہ کی ذات کا کرو اور جب کسی کو اس حالت میں دیکھو تو یہ پیغام اسے بھی پہنچا دو۔ بس یہ طریقہ ہے تھینک یو کہنے کا۔مس زینب کا لہجہ ہمیشہ کی طرح عاجزی اور نرمی سے بھرپور تھا۔عائزہ کی آنکھوں کی چمک بتاتی تھی کہ اس نے اللہ کو پانے کا راز پا لیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو بھی ہر اس شے اور جذبے سے پاک کر دیں جو ہمارے اور اللہ کے بیچ رکاوٹ بنتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…