اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جس کے آگے ہزاروں روپے کی ادویات اور ’’تعویذ بھی بے اثر ‘‘ صدیوں پرانے مسئلے ’’کھٹمل ‘‘کے تدارک کانہایت حیرت انگیز آسان گھریلو ٹوٹکہ

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) گھروں میں کھٹملوں کے بسیرے ہو جائیں تو جان عذاب میں پڑ جاتی ہے، سخت جان کیڑے سے نجات کے لئے طرح طرح کے جتن ناکام ہو جاتے ہیں ، ہزاروں روپے کی ادویات چھڑکنے کا بھی کوئی فائدہ ہوتا نـظر نہیں آتا، آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ

مارکیٹ میں اب ’’کھٹمل کش تعویذ‘‘بھی دستیاب ہیں جنہیں بیچنے والے دعویٰ کرتے نـظر آتے ہیں کہ ان کے تعویذ کی بدولت کھٹمل گھروں سے فرار ہو جاتے ہیں ۔مگر اب صدیوں پرانے اور جان عذاب میں مبتلا کردینے والے کھٹمل کے مسئلے کا ایک ایسا گھریلو ٹوٹکہ سامنے آیا ہے جس کی بدولت آپ اس مسئلے سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور یہ نہایت سستا ہونے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کیلئے نہایت آسان اور قابل عمل ہے اس کیلئے آپ کو کسی خاص تربیت کی بھی ضرورت نہیں۔اسے تیار کرنے کےلیے آپ کو یہ چیزیں درکار ہوں گی: کھانے کے 2 چمچے واشنگ پاؤڈر (کپڑے دھونے کا پاؤڈر) کھانے کے 2 چمچے جراثیم کش محلول (ڈس انفییکٹینٹ) مثلاً ڈیٹول وغیرہ اور 500 ملی لیٹر (2 گلاس) پینے کا صاف پانی ان تمام چیزوں کو اسپرے گن والی بوتل میں ڈال کر خوب اچھی طرح سے ہلا کر محلول تیار کرکے کھٹملوں پر چھڑک دیں جس کے بعد کھٹمل صرف تین سیکنڈوں میں مر جائیں گے۔ اگر گھر میں کھٹملوں کی تعداد زیادہ ہو تو اس دوا کو تب تک استعمال کرتے رہیں جب تک کھٹمل مکمل طور پر ختم نہ ہوجائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…