ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

خانہ کعبہ میں چڑیا کا رزق‎

datetime 9  مارچ‬‮  2017 |

بریانی کھاتے وقت ان کو اچھو لگا‘ سانس رک گیا‘ گھر والوں نے گردن سہلائی‘ پانی پلایا‘ خدا خدا کرکے سانس آیا، چاول دماغ کی طرف چڑھ گئے تھے۔ دو تین روز کے بعد ان کو سر بھاری سا محسوس ہونا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ تکلیف بڑھتی گئی‘ سر میں درد ہونے لگا اور وہ درد روز بروز شدید ہوتا گیا ،بہت علاج کیا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ ڈاکٹروں نے بہت سے ٹیسٹ کرائے ،

دماغ کی جانچ ہوئی مگر مرض سمجھ میں نہیں آتا تھا ،درد کی شدت سے نیند نہیں آتی تھی ،بے خوابی کی وجہ سے پورے جسم پر اثر پڑا‘ کمزوری بڑھتی گئی: مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ،صحت سے مایوسی ہونی شروع ہوگئی اور کچھ دنوں میں زندگی سے بھی مایوسی ہوگئی‘ عزیزوں اور رشتے داروں کا عیادت کیلئے تانتا بندھنے لگا۔ انہیں لگا کہ بس اب موت انکے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔جمعہ کی نماز میں امام صاحب حج کی فضیلت اور فرضیت پر تقریر کررہے تھے ان کو خیال ہوا کہ موت قریب ہے حج فرض ہے چلو حج کرلیں‘ تاکہ موت کی تیاری ہو۔ حج کی درخواست دے دی نام بھی آگیا‘ خیال تھا کہ زندگی کا تو بھروسہ نہیں رہا ،ذرا جلدی چلیں تاکہ حرمین شریفین میں خوب اطمینان سے رہیں اور زندگی بھر کے اپنے گناہوں کی جی بھر کے معافی مانگ لیں۔اللہ کے فضل سے حجاز مقدس پہنچے۔ جاکر عمرہ کیا زندگی کی تو کوئی امید باقی نہیں رہی تھی گو اس حال میں بھی صحت کی دعا جاری تھی۔ کمزوری حد درجہ تھی بھیڑ میں طواف مشکل تھا اس لیے آہستہ آہستہ بیت اللہ سے ذرا دور خالی جگہ میں طواف کرتے تھے اور ایسے وقت طواف کرتے جب حرم میں بھیڑ کم ہو۔ چلچلاتی دھوپ میں ایک روز طواف کررہے تھے مطاف بالکل گویا خالی تھا۔

اچانک ایک چھینک آئی اور چھینک کے ساتھ ناک سے ایک چاول نکل کر مطاف میں گرا‘ بیت اللہ کی دیوار پر ایک چڑیا بیٹھی ہوئی تھی جو گویا اس چاول کے انتظار میں تھی‘ پھُر سے آئی اور مطاف سے چاول کا دانہ چونچ میں دبا کر پھر سے اڑگئی۔ اس چاول کا نکلنا تھا کہ سر بالکل ہلکا ہوگیا اور درد تو گویا تھا ہی نہیں‘ درد ختم ہوا تو نیند بھی معمول پر آگئی اور بھوک اور ہاضمہ سب شروع ہوگیا اور چین سے واپس آگئے۔

اس واقعہ کو آج بیس سال ہوگئے ہیں حاجی صاحب صحت وعافیت کے ساتھ سلامت ہیں۔ مگر ہر روز کئی بار یہ سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کیسے رزاق ہیں چاول کا ایک دانہ حرم پر بیٹھی ہوئی چڑیا تک پہنچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے کیسا انتظام فرمایا کہ ان کے سر میں دو سال تک اس کو محفوظ رکھا اور ان کے شہر سے کس طرح اس کو حجاز پہنچایا۔ اس لیے کہ بیشک رزق دینے کا وعدہ تو اس ذات پاک نے کیا ہے‘

اور رب کا وعدہ سچا ہے۔اسی لئے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں..!اور زمین پر کوئی چلنے والا نہیں مگر اس کی روزی اللہ پر ہے اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتا ہے اور جہاں وہ سونپا جاتا ہے سب کچھ واضح کتاب میں ہے۔(سورہ ہود 6)نجانے کیوں انسان ایسے اپنے رب کے وعدہ رزق پر بھروسہ کرنے کے بجائے بے صبری سے حلال اور حرام کی تمیز کے بغیر ہوس میں مبتلا رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…