پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

لاہورمیں سپر لیگ کے فائنل کے انعقادکے پیچھے کیاسازش ہے؟پرویزالٰہی نے سنگین الزام عائد کردیا

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ اگر پنجاب حکومت اپنے دارالحکومت میں 6گھنٹے کا ایک کرکٹ میچ بھی نہیں کروا سکتی تو اس کی ذمہ داری کیا ہے؟ اسے اپنی نااہلی تسلیم کر کے مستعفی ہو جانا چاہئے، دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے ایک میچ کرانے کیلئے فوج سے جو مدد مانگی ہے اس میں بھی اس کی بدنیتی شامل ہے،

انہوں نے کہاکہ  حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ پرامن میچ ہونے کی صورت میں اسے ن لیگ کا کارنامہ قرار دیا جائے اور خدانخواستہ کسی حادثہ کی صورت میں ذمہ داری فوج پر ڈال دی جائے۔ یہاں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ فوج پہلے ہی کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے، پاکستان کی مشرقی و مغربی سرحدوں پر کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے اور ملک کے اندر بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد چل رہا ہے، ایسے حالات میں فوج کو کرکٹ میچوں کی سکیورٹی میں بھی الجھا دینا دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 9/11 کے باوجود ہمارے پانچ سالہ دور حکومت میں پنجاب میں انٹرنیشنل کرکٹ ہوتی رہی تھی، کوئی غیر ملکی کھلاڑی پاکستان میں آ کر کھیلنے سے خوفزدہ نہیں تھا، ہم نے تو لاہور میں انٹرنیشنل میراتھن ریس بھی کروا کے دکھا دی تھی جو اس کے بعد آج تک نہیں ہو سکی، وجہ یہ تھی کہ لا اینڈ آرڈر ہماری پہلی ترجیح تھی، ہم نے صوبہ کو وارڈنز اور پٹرولنگ پوسٹوں کا فول پروف سکیورٹی سسٹم دیا تھا جس میں عام اہلکاروں کو کمانڈو ٹریننگ اور جدید ترین اسلحہ مہیا کیا گیا تھا، شہبازشریف اپنے انتقامی جذبہ کے تحت میری مخالفت میں یہ سسٹم تباہ نہ کرتے اور یہ کمانڈوز اور ٹریفک وارڈن پہلے کی طرح اسلحہ سمیت لاہور میں تعینات ہوتے تو نہ سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ کرنے میں کامیاب ہوتے

اور نہ پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کا خاتمہ ہوتا۔ پرویزالٰہی نے کہا کہ ایک میچ کیلئے پورے شہر کو یرغمال بنا کر پاکستان کیخلاف اس پروپیگنڈے کو تقویت دی جا رہی ہے کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے جو بجائے خود انتہائی تشویشناک بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…