پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے دینی مدارس پربجلی گرادی

datetime 2  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)وزارت مذہبی امور نے مدارس ریفارم پراجیکٹ کے تحت دینی مدارس کیلئے جاری ہونے والے 3کروڑ 80لاکھ روپے کے فنڈر روک کر مدارس کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ،مدرس میں عصری تعلیم کے حوالے سے شروع کئے جانے والے پراجیکٹ کے تحت بھرتی ہونے والے اساتذہ کو گذشتہ 8مہینوں کے دوران صرف ایک ماہ کا وظیفہ جاری کیا گیا تاہم مذہبی امور کے حکام نے بتایاکہ مدارس کی ویریفکیشن کی وجہ سے ادائیگیاں نہیں کی جارہی ہیں

وزارت مذہبی امور کے مدارس ریفارم پراجیکٹ کے منسلک دینی مدارس کی جانب سے مدرسوں میں عصری تعلیم کیلئے مقرر اساتذہ کرام کو گذشتہ 7مہینوں سے وظیفوں کی عدم ادائیگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پراجیکٹ کو بند کرنے یا پھر وزارت تعلیم کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اس سلسلے میں وفاقی وزیر مذہبی امور کے نام لکھے جانے والے ایک مراسلے میں کہاگیا ہے کہ گذشتہ 7مہینوں سے دینی مدارس میں عصری تعلیم کیلئے مقرر اساتذہ کرام کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں جس کیو جہ سے مدارس کے مہتممین اوران اساتذہ کرام کے درمیان جھگڑے معمول کا حصہ بن گئے ہیں انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم سے قبل مدارس وزارت تعلیم کے ماتحت تھے مگر بعد میں وزارت مذہبی امور نے مدراس ریفارم پراجیکٹ کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے انہوں نے بتایاکہ ہر سال مدارس کے نام پر ملنا والا فنڈروک لیاجاتا ہے اورمدارس کو جاری نہیں کیا جاتا ہے انہوں نے وزارت مذہبی امور سے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس ریفارم پراجیکٹ کو دوبارہ وزارت قومی تعلیم کے حوالے کیا جائے اس سلسلے میں وزارت مذہبی امور کے حکام نے بتایا ہے کہ مدارس ریفارم پراجیکٹ کے نام پر ہر سال حکومت سے 3کروڑ 80لاکھ روپے فراہم کئے جاتے ہیں جو کہ ہر تین مہینے پر بعد ملک بھر کے 432مدارس کو دئیے جاتے ہیں

انہوں نے مدارس کو گذشتہ 8مہینوں سے فنڈز نہ ملنے کی شکایات کو درست قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے مدارس میں عصری تعلیم کے حوالے سے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو تحقیقات کرنے کیلئے خطوط لکھے ہیں اور جن جن مدارس کے بارے میں ہمیں رپورٹ ملتی ہے انہیں فنڈز جاری کئے جاتے ہیں انہوں نے بتایاکہ اگلے ایک یا دو ہفتوں میں اس حوالے سے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کے ساتھ ایک میٹنگ ہوگی جس میں مدارس کی ویریفیکیشن بابت پوچھا جائے گا اور تمام مدارس کو ان کے فنڈز جاری کر دئیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…