پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ایک کروڑ21 لاکھ سے زائد خواتین کے ووٹ کہاں گئے ؟حیرت انگیز انکشافات،آئندہ انتخابات پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا

datetime 27  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )الیکشن کمیشن جینڈر ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے باوجود ملک بھر میں ایک کروڑ21 لاکھ سے زائد اہل خواتین کا انتخابی فہرستوں میں اندراج کرنے میں ناکام، ووٹ ڈالنے سے محروم ہیں۔پنجاب میں سب سے زیادہ 67 لاکھ ، سندھ میں 22 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 20 لاکھ، بلوچستان میں 5 لاکھ 69 ہزار، فاٹا میں 5 لاکھ 23 ہزار اور اسلام آباد میں 52 ہزار اہل خواتین کے نام ووٹرز فہرستوں میں درج نہیں۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے خواتین ووٹرز کا انتخابی فہرستواں میں اندراج یقینی بنانے کے لیے دو سال قبل شعبہ جینڈ بنایا تھا لیکن اس شعبے کی کارکردگی متاثر کن نہ رہی جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو ووٹرز فہرست میں شامل کرنے کا ہدف پورا نہ ہوسکا۔ پاکستان کی کل آبادی کا 51 فیصد خواتین اور 49 فیصد مردوں پر مشتمل ہے لیکن قومی ووٹرز لسٹیں اس کا الٹ نقشہ پیش کررہی ہیں، ای سی پی دستاویز کے مطابق ایک کروڑ 21 لاکھ سے زائد اہل خواتین ووٹ ڈالنے سے محروم ہیں۔ الیکشن کمیشن نے خواتین ووٹرز کا انتخابی فہرستواں میں اندراج یقینی بنانے کے لیے دو سال قبل شعبہ جینڈ بنایا تھا لیکن اس شعبے کی کارکردگی متاثر کن نہ رہی جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو ووٹرز فہرست میں شامل کرنے کا ہدف پورا نہ ہوسکا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 51 فیصد خواتین اور 49 فیصد مردوں پر مشتمل ہے لیکن قومی ووٹرز لسٹیں اس کا الٹ نقشہ پیش کررہی ہیں، ای سی پی دستاویز کے مطابق ایک کروڑ 21 لاکھ سے زائد اہل خواتین ووٹ ڈالنے سے محروم ہیں۔ دستاویز کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ 67 لاکھ خواتین جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ میں 22 لاکھ خواتین ووٹرز لسٹوں میں شامل نہیں ۔ خیبر پختونخوا میں 20 لاکھ، بلوچستان میں 5 لاکھ 69 ہزار، فاٹا میں 5 لاکھ 23 ہزار اور اسلام آباد میں 52 ہزار خواتین کا بھی ووٹرز لسٹوں میں اندراج نہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…