حضرت وحیہ بن خلیفہ فرماتے ہیں: “نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایک مرتبہ قبطی کپڑے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس میں سے ایک قبطی کپڑا مجھے عطا کیا اور فرمایا کہ اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لینا،
ان میں سے ایک کا کرتہ بنا لینا اور دوسرا اپنی اہلیہ کو دے دینا وہ اسکا ڈوپٹہ بنا لے گی-پھر جب میں واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:اپنی بیوی کو ہدایت کر دینا کہ قبطی کپڑے کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تاکہ اس کپڑے کے باریک ہونے کی وجہ سے اس کے بال اور جسم نظر نہ آئیں”-
(مشکوۃ المصابیح، کتاب الباس ،الفصل الثانی صفحہ 376، قدیمی)۔ لباس اتنا تنگ اور چست نہ ہو جس سے جسم کی ہیئت اور ابھار معلوم ہو:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے: “دوزخیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا،ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جن کے ہاتھوں میں گائے کے دم کی مانند کوڑے ہوں گے،جس سے وہ لوگوں کو ناحق ماریں گے اور دوسرہ گروہ ان عورتوں کا ہے جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی،مگر حقیقت میں ننگی ہوں گی،وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود مردوں کی طرف مائل ہوں گی،ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہلتے ہوں گے- ایسی عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی جنت کی بو پائیں گی،حالانکہ جنت کی بو اتنی اتنی دوری سے آتی ہے”-



















































