جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ،اعتزازاحسن نے بڑی پیش گوئی کردی

datetime 25  فروری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)پیپلزپارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا اپنے دفاع میں قطری شہزادے کا خط نہیں مانا جائے گا‘ اگر قطری خط مانا گیا تو ہر غلط کام کرنے والا کسی نہ کسی عرب ملک سے خط لے آئے گا‘ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے ساتھ رعایت برتی‘ وزیراعظم کو عدالت میں طلب کیا جانا چاہیے تھا

سپریم کورٹ کے نیب سے متعلق بیان پر افسوس ہے‘ سپر یم کو رٹ وزیر اعظم کو طلب کرتی اور لندن فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے سوالات پوچھے جاتے‘ اگر پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں نہ ہوا تو یہ حکومت کی ناکامی ہو گی۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے تاہم وزیراعظم نوازشریف نے شریف فیملی کے لندن فلیٹس کا مالک ہونے کا اعتراف کیا تھا اور سپریم کورٹ کو وزیر اعظم کو طلب کر کے سننا چاہیے تھا اور فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے سوالات کرنے چاہیے تھے‘قطری ، ایرانی اور متحدہ عرب امارات کے خطوط ملک کو مالی انتشار کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا موقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی عدالت کو یہ موقف تسلیم کرنا چاہیئے کیونکہ اگر عدالت نے یہ وضاحت تسلیم کر لی تو ملک میں مالی انتشار پیدا ہو جائے گا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عدالت نیب کے سامنے لاچار نظر آئی ۔ نیب کے حوالے سے عدالت کے ریمارکس کہ نیب ہمارے سامنے فوت ہو گیا بدقسمتی کی بات ہے ۔سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ مردہ نیب کو زندہ کر تی ۔ اگر پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں منعقد نہیں ہوتا تو یہ حکومت کی ناکامی تصور ہو گی ۔انہوں نے بار ایسوسی ایشنز میں سیکیورٹی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی شناختی کارڈ اور بار کا ممبر شپ کارڈ دکھاکر اندر آنے دیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…