اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

افغان فوج نے کمال کر دکھایا ,طالبان پاکستان کے اہم کمانڈر قاری شکیل ، ڈاکٹر طارق افغان فورسز سے جھڑپ میں ہلاک

datetime 13  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)افغانستان کے علاقے پرچوا میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم کمانڈر قاری شکیل اور ڈاکٹر طارق ہلاک ہوگئے ، قاری شکیل نے واہگہ بارڈر اور لاہور پولیس لائنزپر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ، حکومت نے قاری شکیل کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی۔ راٰئع کے مطابق اہم طالبان کمانڈر قاری شکیل حقانی اور کیپٹن ڈاکٹر طارق علی المعروف ابوعبیدہ الاسلام آبادی افغانستان کے علاقے پرچاو¿ میں جھڑپ کے دوران مارے گئے ، دونوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ذیلی گروپ جماعت الاحرار سے تھا۔ دہشتگرد کمانڈر قاری شکیل نے واہگہ بارڈر، اور لاہور پولیس لائنز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس کا نام آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے منصوبہ ساز کے طور پر بھی سامنے آیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے قاری شکیل کالعدم تحریک طالبان کے سابق امیر حکیم اللہ محسود سے پہلے مرکزی شوریٰ کا رکن تھا تاہم حکیم اللہ محسود جب تنظیم کا امیر بنا تو دونوں میں اختلافات پیدا ہوگئے اور قاری شکیل کو تنظیم سے نکال دیا گیا۔ چند ماہ بعد اسے دوبارہ کالعدم تنظیم میں شامل کر لیا گیا۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد قاری شکیل کو کالعدم تحریک طالبان کی مرکزی شوریٰ کا امیر بنا دیا گیا۔ دہشتگرد کمانڈر قاری شکیل کا تعلق شبقدر کے علاقے مچنی سے ہے ، وہ حکومت سے مذاکرات کرنے والی طالبان کمیٹی کا سربراہ بھی رہا۔ مہمند ایجنسی میں پاک فوج نے آپریشن شروع کیا تو وہ افغانستان فرار ہو گیا۔ ہلاک ہونے والا دوسرا دہشتگرد کمانڈر ڈاکٹر طارق شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز سے جھڑپ کے دوران پکڑا بھی گیا تھا۔ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کوہاٹی چرچ دھماکے ، کوہستان داسو میں گیارہ غیر ملکیوں کی ہلاکت کے علاوہ کراچی میں متعدد دھماکوں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…