دودھ سے بھری کیتلی اس کی بیٹی کے ہاتھوں سے اچانک چھوٹ کر نیچے گری ۔ سارے کا سارا دودھ زمین پر پھیل گیا۔وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کیلئے اس کے ذہن میں شکوہ پیدا ہوا۔’’اے مالک اس طرح کے چھوٹے بڑے نقصان ہم غریبوں کا مقدّر ہی کیوں ہوتے ہیں؟‘‘اگرچہ ایک ہی لمحے میں پورے دن کی کمائی کے برابر نقصان ہو چکا تھا تاہم وہ زبان سے کچھ نہ بولا۔
اچانک اس نے عجیب منظر دیکھا۔ایک بلی کہیں سے نمودار ہوئی اور زمین پر پھیلا دودھ چاٹنا شروع کر دیا جب وہ جانے کیلئے مڑی تو تو ایک دم لڑکھڑائی اور زمین پر گر کر لوٹ پوٹ ہو نے لگی، وہ بھاگ کر پہنچا لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی بلی کی موت ہو گئی۔اسے صدمہ ہوا یقیناانجانے میں دودھ میں کوئی مہلک چیز شامل ہو گئی تھی۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اگر یہ دودھ زمین پر نہ گرتا تو کیا ہوتا؟؟فوراً رب کی بڑائی کا اسے احساس ہوا۔یا رب! تیرے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہم کتنے نادان ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے نقصان پر تقدیر کا گلہ کرنے لگتے ہیں۔
بیوی کی شرارت
ایک لڑکی نے سوچا کہ اگر میں اچانک اپنے خاوند کو یہ بتائے بغیرچلی جاؤں کہ میں کہاں جا رہی ہوں تو ان کا ردعمل کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر اس نے خط لکھا، “میں آپ سے تنگ آ چکی ہوں اور مزید آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ میں آپ کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا رہی ہوں”۔ یہ خط لکھ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود بیڈ کے نیچے چھپ گئی۔ جب اس کا خاوند واپس آیا تو اس نے خط پڑھا اور اس کی پشت پر کچھ لکھ دیا۔ پھر اس نے ناچنا اور گانا شروع کر دیا۔ اپنا فون اٹھایا، کسی لڑکی کو نمبر ملایا اور بولا،
“جان آج میں بہت خوش ہوں، میں اپنی بیوی سے بہت تنگ تھا، آج مجھے اندازہ ہو گیاکہ اس سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی، میں بس کپڑے بدل کر تم سے ملنے آ رہا ہوں، اب بس تم ہو گی، میں ہوں گا اور رقص میں سارا جنگل ہو گا”۔اس کے بعد اس نے کپڑے بدلے اور گھر سے باہر چلا گیا۔ اس کی بیوی کچھ دیر بیڈ کے نیچے ہی لیٹی رہی، منہ پر ہاتھ رکھ کر روتی رہی، آخر ہمت کر کے باہر نکلی۔ پھر اس نے سوچا کہ آخر اس کے خاوند نے خط کے پیچھے کیا لکھا تھا؟ اس نے کاغذ پلٹا تو وہاں لکھا تھا: “پاگل عورت بیڈ کے نیچے سے تمہارے پاؤں نظر آ رہے تھے، میں مارکیٹ سے دودھ لینے جا رہا ہوں، دس منٹ میں آ جاؤں گا۔



















































