” مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ قیدی آپ کی خدمت میں لائے گئے، اس میں کچھ نومولود بچے بھی تھے، یہ ان کے لئے قید خانہ ہوکر بھی اپنے گھر سے زیادہ آرام دہ مکان تھا، اور ان کی نگرانی پر مامور چوکیدار اپنے حقیقی بھائیوں سے زیادہ ان کی راحت کا خیال رکھنے والے تھے
شفیق و مہربان انسان تھے، یہ لوگ ابھی تھوڑی دیر قبل ہی دربار نبوت میں لائے گئے تھے، اسی دوران اچانک ایک خاتون دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی، اس حالت میں کہ اس کی چھاتی سے دودھ بہہ رہا تھا، ان قیدیوں میں موجود اپنے بچہ پر جب اس کی نظر پڑی تو فورا اس کو اٹھا کر سینہ سے چمٹا لیا اور دودھ پلانے لگی۔ یہ جذباتی منظر دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے مخاطب ہوکر سوال کیا: بتاؤ! کیا یہ عورت اپنے اس بچہ کو آگ میں جھونک سکتی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: بالکل نہیں اپنے ہوش و حواس میں تو ایسا نہیں کرسکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے اس سے زیادہ محبت ہے جتنی اس خاتون کو اپنے بچہ سے ہے۔
مزید ارشاد فرمایا: اللہ تعالی نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے ہیں اور ننانوے حصے اپنے پاس رکھ کر صرف ایک حصہ زمین پر اتارا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنا پیر اپنے بچے کو لگنے نہیں دیتی۔



















































