اس ظالم سے میرے پیسے تو لے دو کوئی !ارش کا تاجر بے بسی کی تصویر بنا ہوا فریاد کررہا تھا ۔وقت کے اس فرعون کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت کسی میں نہ تھی بلکہ بیمار معاشرے کی اکثریت کا حال تماش بین کا تھا ۔مظلوم تاجر با بار ہر قبیلے کے سردار کے پاس جاتا ان کی منت سماجت کرتا،ان کے آگے ہاتھ جوڑتا ان کے پاؤں پڑتا مگر ان سرداروں کے قہقہے تھمتے نہیں تھے۔نہیں بھئی نہیں !!!!
ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے وہ بہت بڑا سردار ہے اس سے تو بس ایک ہی شخصیت ایسی ہے جو تمہیں تمہارے پیسے دلوا دے ورنہ اس بستی میں ان کے علاوہ کوئی اور موجود ہی نہیں جو تمہیں تمہارا حق دلا سکے۔مظلوم تا جر نے روتی ہو ئی آنکھوں کو صاف کیا اور پوچھا مجھے اس مسیحا کا نام بتا ؤ میں ان سے جا کر عرض کرتا ہو ں ان سے مدد کی درخواست کروں گا مجھے اْمید ہے وہ میری مدد کریں گے۔ان بد قماش سرداروں نے کہا وہ سامنے بیٹھے ہیں یہ ہی وہ شخصیت ہیں جو تمہاری مشکل کو آسان کرسکتے ہیں ارش کا مظلوم تاجر بھیگی پلکوں کا بوجھ لیے آپﷺکی خدمت میں پہنچ کر روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ عرض گزار ہوا حضور ؐمجھ پر اس مقدس زمین پر ظلم ہوا ہے آپ میری مدد فرمائیے ، ابو جہل نے مجھ سے اونٹ خرید لیے ہیں لیکن یہ ان کی رقم مجھے نہیں دیتا میں مسافر بھی ہوں اور اجنبی بھی آپؐ میری مدد فرمائیے ۔نبی مکرمﷺ نے اس مظلوم مسافر کو ساتھ لیا اور ظالم ابو جہل کے دروازے پر دستک دی اندر سے ظالم ابو جہل با ہر آیا اور جیسے ہی اس نے آپ ﷺ کو دیکھا اس کا چہرہ فق ہو گیا ۔آپﷺ نے فرمایا اس مظلوم کا حق ادا کرو ۔ابو جہل نے لرزتی آواز کے ساتھ کہا : ابھی لا کر حاضر کرتا ہوں اگلے ہی لمحے مظلوم تاجر کی رقم اس کے ہاتھ میں تھی۔دوسری طرف تماش بین اس انتظار میں تھے کہ اگر ابو جہل رقم دیتا بھی ہو تو اب تو ہرگز نہیں دے گا مگر یہ سارا منظر دیکھ کر تووہ حیران رہ گئے اور ابو جہل سے کہا :یہ تونے کیا کیا ؟ہمارے لیے یہ بڑا تعجب خیز ہے۔ابو جہل نے کہا :تم سب کے لیے بربادی ہو میں نے دیکھا کہ ایک اونٹ میرے سر پر کھڑا ہے اگر میں یہ رقم نہ دیتا تو وہ اونٹ مجھے کھا جاتا ۔



















































