ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

راستے کا انعام

datetime 20  فروری‬‮  2017 |

ایک بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور اِس کے افتتاح کے لئے ایک ریس کا اعلان کیا اور کہا کہ ’’ اس ریس میں تمام شہری حصہ لیں اور اِسکے اختتام پر شاہراہ کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار بھی کریں، اور جس کا نقطہ نظر بادشاہ کو پسند آئے گا اسے انعام سے نوازا جائے گا۔سب نے بڑے جوش و خروش سے ریس میں حصہ لیا۔

شاہراہ کے دوسرے سرے پر بادشاہ ریس کے شرکاء کے تاثرات پوچھتا رہا۔کسی نے شاہراہ کی تھوڑی، کسی نے زیادہ تعریف کی، مگر سب نے بتایا کہ’’ شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے۔اگر اسے ا ٹھوا دیا جائے تو راہ چلنے اور دوڑنے والوں کے لیے بہت اچھا ہوگا۔شام تک سب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اٹھ کر جانے لگا۔ایک سپاہی نے خبر دی کہ ’’ ریس میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو شاہراہ میں صبح سویرے داخل ہوا تھا ابھی آنا باقی ہے‘‘۔کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھول میں لت پت تھکا ہارا ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور ہانپتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوا۔جناب عالی !میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا۔دراصل راستے میں کچھ بجری پڑی تھی، میں نے سوچا اِس کی وجہ سے گزرنے والے لوگوں کو تکلیف ہوگی،لہٰذااسے ہٹانے میں کافی وقت لگ گیالیکن حضور !بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ہے، اس میں شاید کچھ سونے کے سکے ہیں۔ہو سکتا ہے سڑک بنانے والے مزدوروں میں سے کسی کے ہوں گے۔ اسے دے دیجئے گا۔وہ شخص اپنی بات ختم کر کے چلنے لگا تو بادشاہ نے کہا ’’ بوڑھے میاں !یہ تھیلی اب آپکی ہے۔ کیونکہ یہ میں نے ہی وہاں رکھوائی تھی اور یہ تمہارا انعام ہے!پھر بادشاہ دوسرے حاضرین کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے بولا، بہترین شخص وہ ہوتا ہے، جو گلے شکوے کرنے کی بجائے اپنے عمل سے کچھ کر کے دکھائے۔

اگر دیکھا جائے تو ہم سب بھی مجموعی طور پر راستے کی اِس ’’بجری‘‘ پر تو نالاں رہتے ہیں جو ہمارے راستے میں حائل ہے مگر اسکو ہٹانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم میں سے ہر کوئی گفتار کا غازی تو بن جاتا ہے،مگر کوئی بھی کردار کا غازی بننے کو تیار نہیں ہے۔اللہ کرے اب ہم لوگ بھی صرف باتیں بنانے کے بجائے اردگرد موجود چھوٹی موٹی ’’بجریاں‘‘بھی ہٹانا شروع کر دیں۔ایسا کرنے پر مجھے یقین ہے کہ ایک دِن ہم اس حقیقی بادشاہ کی بارگاہ سے دنیا و آخرت میں انعام ضرور پائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…