حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ:’’ آپ رضی اللہ عنہ کوڑا کرکٹ جمع ہونے کی جگہ سے پْرانے کپڑے چن چن کر پاک کر لیا کرتے اور انہی سے گدڑی سی لیتے،سبزی فروشوں کے نکالے ہوئے پتے اور پھل وغیرہ کو کھانے کے لیے اْٹھا لیتے۔ایک روز ایک کتا آپ رضی اللہ عنہ پر بھونکنے لگا۔آپ نے جوابا فرمایا’’ جو تیرے قریب ہے اس سے تُو کھا،جو میرے قریب ہے اس سے میں کھا رہا ہوں،
تُو مجھ پر بھونکتا کیوں ہے؟ اگر پل صراط سے میں سلامت گزرگیا تو میں تجھ سے بہتر ہوں،ورنہ تُو مجھ سے بہتر ہے۔‘‘
آٹھ قسم کی صحبتیں اور ان کا اثر
حضرت ابو اللیث سمر قندی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو شخص آٹھ قسم کے لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں آٹھ چیزوں کا اضافہ فرما دیتا ہے ۔جو مالداروں کیساتھ بیٹھتا ہے۔اس میں دنیا کی محبت اور رغبت بڑھا دیتا ہے۔جو فقیر وں کیساتھ بیٹھتا ہے اس میں شکر اور اپنی تقسیم پر رضا بڑھا دیتا ہے۔جو بادشاہوں کیساتھ بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں تکبر اور سنگدلی میں اضافہ فرما دیتا ہے۔جو عورتوں کی ہم نشینی میں رغبت کرتا ہے اس میں جہالت ،شہوت اور عورتوں کی عقل کی طرف میلان بڑھ جاتا ہے۔ جو بچوں کے ساتھ بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں طنز و مزاح اور لہو و لعب میں اضافہ کردیتا ہے۔جو گنہگاروں کی معیت اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکے اندر گناہ کرنے کی جرأت ،نافرمانیوں کی طرف پیش قدمی اور توبہ میں سستی پیدا کردیتا ہے۔جو شخص نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں اطاعت کی رغبت اور حرام سے اجتناب کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیتا ہے۔جو شخص علمائے کرام کی مجلس میں بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اسکے علم و تقویٰ میں اضافہ فرما دیتا ہے۔



















































