پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

’’اس طرح تو ہوتا ہے پھر اس طرح کے کاموں میں ‘‘

datetime 19  فروری‬‮  2017 |

بہاولپور (این این آئی) فیس بک پر سات ماہ کی تنخواہ مانگنے والے پولیس اہلکار دین محمد کو گرفتار کر لیا گیا ترجمان کے مطابق دین محمد پر ساتھی اہلکار سے اسلحہ چھیننے کا الزام ہے جبکہ اکائونٹنٹ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ دین محمد کو تھانہ سول لائن پولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ کانسٹیبل دین محمد نے ڈی ایس پی پر تشدد کرنے

کا الزام لگایا تھا اس حوالے سے ڈی ایس پی خواجہ ضمیر نے کہا کہ میں نے یا کسی اہلکار نے دین محمد پر تشدد نہیں کیا۔ دین محمد بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ دین محمد 2007ء میں خودکشی کی کوشش بھی کر چکا ہے۔‎واضح رہے کہ پولیس اہلکار کے مطابق اسے اس کے پیٹی بھائیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہےبلکہ اس کے بچوں کو بھی نہیں بخشا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مذکورہ پولیس اہلکار کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی جس میں اس نے سات ماہ سے اپنی بند تنخواہ کے علاوہ اپنی گھریلو مشکلات کا ذکر کرتے ہوئےوزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی پالیسیز کو بھی کڑی تنقید کر نشانہ بناتے ہوئے انہیں ان پالیسیز کے تحت پرائمری ٹیچر بھی بھرتی نہ ہونے کا کہا تھا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کو مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے شرط رکھی تھی کہ اگر میں مناظرہ ہار جائوں تو مجھے چوبرجی پر پھانسی دے دی جائے، ویڈیو میں پولیس اہلکار نے ایک بیوروکریٹ کی ریکارڈنگ کا بھی ذکر کیا تھا

جس میں اس نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیوروکریٹ نے تسلیم کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ایجوکیٹر پالیسی ناقص ہے۔ تاہم صوبائی حکام نے اس وائرل ہوتی ویڈیو پر تاحال کوئی بھی بیان یا ردعمل نہیں دیا ہے جبکہ پولیس اہلکار اور اس کے بچوں کی اپنے پیٹی بھائیوں کے ہاتھ درگت بن چکی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو مناظرے کا چیلنج اور کھری کھری سنانے والےپولیس اہلکار پر پیٹی بھائیوں کا تشدد، بچوں کو بھی نہ بخشا،۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر تنقید کرنے اورانہیں مناظرے کا چیلنج کرنے والے پولیس اہلکار کوپیٹی بھائیوں نے پھینٹی لگا دی ،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…