پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان سے پاکستان پر حملے ملکی سالمیت پر حملے ہیں ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا غضبناک،اصل کمزوری سامنے لے آئے

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

پشاور (آئی این پی)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے افغانستان سے پاکستان پر حملوں کو ملکی سالمیت پر حملے قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دہشتگردوں کی مالی امداد کو روکنا ہو گا ، آپریشن ضرب عضب سے کافی تبدیلی ممکن ہوئی مگر ہماری بارڈر مینجمنٹ کمزور تھی،وزیر اعلیٰ پنجاب کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پنجاب میں بھی پولیس کا ایسا نظام بنا کر دکھائیں ، ہم پنجاب سے سستی میٹرو بنا کر

دکھائیں گے ، دوسرا چیلنج کہ شہباز شریف اپنے صوبے کے تمام ہسپتالوں میں سو فیصد ڈاکٹرز دکھا دے میں اپنے صوبے میں دکھا سکتا ہوں، عمران خان نے کبھی کسی کی بھی سفارش نہیں کی‘ کے پی کے میں کوئی شریف آدمی احتساب کمشنر لگنا نہیں چاہتا ‘ وہ لگنا چاہتا ہے جو کسی کو خوش کرے ‘ یہاں کسی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ سچا فیصلہ کرے ‘ عمران خان جیسا آدمی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ‘ اس نے کبھی میری حکومت میں مداخلت نہیں کی ‘ انتظامی امور میں بھی کوئی مداخلت نہیں کی ‘ میں ڈمی وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتا اور نہ ہی کبھی زندگی میں میں نے کسی کی غلامی کی ہے۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان سے پاکستان پر حملے ملکی سالمیت پر حملے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں مذہبی شدت پسندی موجود نہیں۔ دہشت گردی کو روکنے کے لئے ان کی مالی امداد کو روکنا ہو گا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب سے کافی تبدیلی ممکن ہوئی مگر ہماری بارڈر مینجمنٹ کمزور تھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بہت سے منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کسی ایک بندے کی غلامی نہیں رہی ہے۔ ہمارے صوبے میں پولیس کو مکمل طور پر آزاد کر دیا گیا ۔ میر ے کہنے پر کبھی کسی ایک سپاہی کا تبادلہ بھی نہیں کیا گیا۔ میں نے پولیس کو خبردار کر دیا تھا کہ تھانے میں رشوت ‘ بے ایمانی اور مار پیٹ نہیں

مانوں گا ‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے عمران خان جیسا آدمی نہیں دیکھا اس نے کبھی خیبر پختونخوا میں کسی کی سفارش نہیں کی اور نہ ہی کبھی میرے معاملات میں مداخلت کی ہے۔ میں ڈمی وزیر اعلیٰ نہیں ہوں میں اپنے تمام انتظامی معاملات میں بھی آزاد ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پنجاب میں بھی پولیس کا ایسا نظام بنا کر دکھائیں۔ ہم پنجاب سے سستی میٹرو بنا

کر دکھائیں گے۔ دوسرا چیلنج کرتا ہوں شہباز شریف کو کہ وہ اپنے صوبے کے تمام ہسپتالوں میں سو فیصد ڈاکٹرز دکھا دے میں اپنے صوبے میں دکھا سکتا ہوں۔ میں نے ڈاکٹرز کی تنخواہیں بھی بڑھائی ہیں۔ ہمارے سکولوں میں بھی سو فیصد ٹیچرز ہیں اور پہاڑی علاقوں میں دور دراز تک انفراسٹرکچر پہنچایا جا رہا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ کے پی میں سب سے بہتر انڈسٹریل سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ہم کے پی کے 7 اضلاع

میں میٹرو ٹرین بنائیں گے اور اس کے لئے کوئی قرضہ بھی نہیں لیں گے۔ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنے تمام کاموں میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میر امقابلہ کر کے دکھا دیں۔ احتسااب کمیشن میں ڈی جی کو میں تعینات نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ میری وفاق کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے۔ اپنے صوبے کا حق میں وفاق سے پورا وصول کرتا ہوں۔ وفاق ہمارے قانونی حق میں رکاوٹ نہیں ڈال رہا۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہاکہ

واپڈا وفاق کا ادارہ ہے اور اس کے تمام معاملات کا ذمہ دار بھی وفاق ہے یا واپڈا کے افسران ۔ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چور وفاق کے لوگ ہوں گے ہم اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ ۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…