ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بادشاہ اور گدھا

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا ایک دن بادشاہ کا دل چاہا کہ ملک کے دورے پر نکلے، تو اس نے محکمہ موسمیات کے افسر سے پوچھا کہ آنے والے چند دنوں میں موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات کے بڑے افسر نے حساب کتاب نکال کر بادشاہ کو بتایا کہ آنے والے کئی دنوں تک بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اس لئے آپ مطمئن ہو کر ملک کی سیر کو نکل سکتے ہیں۔ بادشاہ اپنی ملکہ کو ساتھ لے کر دورے پر نکل جاتا ہے، دارالحکومت سے میلوں دور ایک جگہ اس کی ایک کمہار سے ملاقات ہوتی ہے جو اپنےگدھے پر مال لادھے کہیں جا رہا ہوتا ہے، کمہار بادشاہ کو پہچان لی جاتا ہے اور بادشاہ کو بتاتا ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے واپس چلے جائیں، اس علاقے میں بہت موسلادھار بارش ہونے والی ہے۔ بادشاہ کمہار کو کہتا ہے کہ میرے موسمیات کے افسر نے مجھے بتایا ہے کہ بارش کا کوئی امکان نہیں ہے، میرا افسر ایک تعلیم یافتہ اور بہت ذہین بندہ ہے، جس نے ملک کی اعلی درسگاہوں سے تعلیم حاصل کی ہے اور میں اس کو بہت بڑی تنخواہ دیتا ہوں۔ اس لئے میں ایک کمہار کی بجائے اپنے افسر کی بات پر یقین رکھ کر سفر جاری رکھوں گا ۔ انہونی یہ ہوئی کہ دوپہر بعد ہی بارش شروع ہو گئی اور بارش بھی طوفانی بارش کہ جس میں بادشاہ اور ملکہ کا سارا سامان بھی بھیگ گیا۔ بادشاہ وہیں سے واپس مڑا اور راج دھانی میں پہنچتے ہی محکمہ موسمیات کے افسر کو قتل کروا دیا اور بندے بھیج کر کمہار کو دربار میں بلایا۔ دربار میں بلا کر بادشاہ نے کمہار کو محکمہ موسمیات کی نوکری کی پیش کش کی۔ بادشاہ کی پیش کش پر کمہار نے بادشاہ کو بتایا کہ میرے پاس کوئی علم عقل نہیں ہے، میں یہ نوکری کرنے کا اہل نہیں ہوں۔ جہاں تک بات ہے بارش کی پیشن گوئی کی تو وہ اس طرح ہے کہ اس کا اندازہ میں گدھے کے کان دیکھ کر لگاتا ہوں جب بھی گدھے کے کان مرجھائے ہوئے ہوتے ہیں اس کے بعد بہت بارش ہوتی ہے۔ یہ سن کر بادشاہ نے بجائے کمہار کے گدھے کو افسر رکھ لیا۔ بس اس زمانے سے یہ رواج پڑا ہوا ہے کہ بعض حکومتی محکموں میں گدھے ہی بھرتی کئے جاتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…